خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 96

خطبات محمود ۹۶ سال ۱۹۳۹ء کہ اُنہوں نے سمجھا اگر آج ماتم کیا گیا تو مکہ کی تمام عزت خاک میں مل جائے گی۔پس عربی کے ان لیڈروں نے جو زندہ تھے آپس میں مشورہ کر کے فیصلہ کر دیا کہ کوئی شخص بدر کے مقتولین کا ماتم نہ کرے اور اگر کوئی شخص ماتم کرے تو اُسے قوم سے نکال دیا جائے ، اُس کا بائیکاٹ کیا جائے اور اُس پر جرمانہ کیا جائے۔عرب ایک قبائلی قوم ہے اور جو قبائلی قومیں ہیں اُن میں قومی روح انتہاء درجہ کی شدید ہوتی ہے۔پس اس حکم کی خلاف ورزی ان کے لئے ناممکن تھی۔مائیں اپنے کلیجوں پر سل رکھ کر ، باپ اپنے دلوں کو مسوس کر اور بچے اپنی زبانوں کو دانتوں تلے دبا کر بیٹھ گئے اور اُن کے لبوں سے آہ بھی نہیں نکلتی تھی کیونکہ ان کی قوم کا یہ فیصلہ تھا کہ آج رونا نہیں تا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس کے ساتھی خوش نہ ہوں اور وہ یہ نہ کہیں کہ دیکھا ہم نے مکہ والوں کو کیسی شکست دی۔مگر دل تو جل رہے تھے ، سینوں میں سے تو شعلے نکل رہے تھے ، جگر تو ٹکڑے ٹکڑے ہو رہے تھے۔وہ دروازے بند کر کے تاریک گوشوں میں بیٹھتے اور دبی ہوئی کی آواز کے ساتھ روتے تاکسی کو یہ پتہ نہ لگے کہ وہ رو رہا ہے مگر یہ رونا ان کی تسلی کا موجب نہیں تھا کی کیونکہ انسان غم کے وقت دوسرے سے تسلی چاہتا ہے۔بیوی چاہتی ہے کہ خاوند مجھ سے دُکھ درد کرے اور خاوند چاہتا ہے کہ بیوی مجھ سے دُکھ درد کرے، باپ چاہتا ہے کہ بیٹا میرے غم میں حصہ لے اور بیٹا چاہتا ہے کہ باپ میرے غم میں حصہ لے۔اسی طرح ہمسایہ چاہتا ہے کہ ہمسایہ والے میرا غم بٹائیں اور اگر کوئی ایسا ماتم ہو جائے جس کا اثر سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں پر ہو تو کی اس وقت سب لوگ چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کریں اور اس طرح اپنے دُکھ درد کو کم کریں۔پس تنہائی کے گوشوں میں ان کا بیٹھ کر رونا ان کی تسلی کا موجب نہیں تھا۔مہینہ گزر گیا اور برابر یہ حکم نافذ رہا۔اس عرصہ میں وہ آگ جو اُنہوں نے اپنے سینہ میں دبا رکھی تھی سلگتی رہی آخر مہینہ کے بعد ایک دن ایک مسافر وہاں سے گزرا اُس کی ایک اونٹنی تھی جو راہ میں ہی مرگئی۔وہ اُس اونٹنی کے غم میں چینیں مار کر روتا جا رہا تھا اور کہتا جارہا تھا ہائے میری اونٹنی کی مرگئی ، ہائے میری اونٹنی مرگئی۔تب مکہ کا ایک بوڑھا شخص جو اپنے مکان کے دروازے بند کر کے اندر بیٹھا ہوا تھا اُس نے اپنے مکان کے دروازے کھول دیئے اور بازار میں آکر زور زور سے اُس نے پیٹنا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس شخص کو اپنی اونٹنی پر رونے کی تو اجازت ہے مگر