خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 8

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ توجہ سے کام کیا جائے اور محبت و پیار اور سنجیدگی سے تبلیغ کی جائے ، تا محنت رائیگاں نہ جائے۔تمسخر اور استہزا سے پر ہیز کرنا چاہئے۔آج کل تمسخر اور استہزا کی عادت بہت ہو گئی ہے اور لوگ ہنسی مذاق میں بات کے اثر کو ضائع کر دیتے ہیں۔ہنسی مذاق بھی ایک حد تک اچھا ہوتا ہے مگر یہ تو کھانے میں نمک کے طور پر ہوسکتا ہے۔کھانے میں نمک تو اچھا ہوتا ہے مگر نمک کی روٹی پکا کر نہیں کھائی جاسکتی۔زیادہ ہنسی مذاق روحانی کمزوری اور تبلیغ میں روک کا موجب ہوتا ہے۔اس لئے تبلیغ سنجیدگی سے کرنی چاہئے۔مجھے بعض غیر لوگوں نے یہ اطلاع دی ہے کہ بعض احمدی تبلیغ کو جاتے ہیں تو راستہ میں شکار کرتے ہیں۔اس میں طبہ نہیں کہ رستہ میں اگر شکار کر لیں تو یہ نا جائز نہیں مگر دیکھنے والوں پر اس کا یہ اثر ضرور ہوتا ہے کہ یہ لوگ دراصل شکار کو آئے ہیں اور تبلیغ ایک بہانہ ہے۔اگر وہ سنجیدگی سے تبلیغ کریں اور کوئی اور کام خواہ وہ کتنا ہی بے ضرر ہو نہ کریں تو بہت زیادہ اثر ہو سکتا ہے۔بعض لوگ نہر پر چلے جاتے کی ہیں کہ وہاں سے جو لوگ گزریں گے ان کو تبلیغ کریں گے۔وہاں وہ خود نہاتے اور کھاتے پیتے بھی ہیں اور گو ساتھ تبلیغ بھی کریں مگر دیکھنے والا یہی سمجھتا ہے کہ اُنہوں نے ٹرپ کیا ہے اور کی سنجیدگی چاہتی تھی کہ وہ کوئی اور کام جس کا تعلق ان کی خواہشات ولذت سے ہوتا نہ کرتے تو دیکھنے والوں پر ضرور زیادہ اثر پڑتا۔میں اُمید کرتا ہوں کہ قادیان کے دوست خصوصاً اور باہر کے عموماً محنت، جانفشانی اور کی دُعاؤں کے ساتھ اس کام میں لگ جائیں گے اور معتین صورت میں کوشش کریں گے اور پھر معینہ میعاد کے اندر فہرستیں مکمل کر کے بھجوا دیں گے۔“ (الفضل ۲۴ جنوری ۱۹۳۹ء) 66 مکاشفہ باب ۱۰ آیت ۱ تا ۴۔برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن ۱۸۸۷ء ترمذی ابواب الدعوات باب ماجاء في القوم يجلسون و لا يذكرون الله ـ