خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 77

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء وہ یاد آتی ہے میرے دل سے اُن کے لئے دُعا نکلتی ہے۔پس آوارگی کو مٹانا بھی خدام الاحمدیہ کے فرائض میں سے ہے۔اب چونکہ دیر ہو گئی ہے اس لئے باقی باتیں پھر بیان کروں گا۔“ ل الفرقان: ٣١ الفضل اار مارچ ۱۹۳۹ ء ) البقره: ۳۶ ، الاعراف: ۲۰ المنجد عربی اُردو صفحه ۴۴۶ مطبوعہ کراچی ۱۹۹۴ء المنجد عربی اُردو صفحه ۴۴۶ مطبوعہ کراچی ۱۹۹۴ء ابو داؤد کتاب الادب باب فى المولود يُؤذن في أذنه ( مفهوماً ) ابو داؤد كتاب الصلوة باب مَتى يُؤْمَرُ الْغُلامُ بالصلوۃ میں عید گاہوں کا ذکر نہیں۔کے ایک آبی پرندہ جسے عربی میں نظام ، فارسی میں خر چال اور ہندی میں چکوا چکوی کہتے ہیں۔رنگ سُرخ ہوتا ہے جو رات کو اپنی مادہ سے جُدا رہتا ہے۔ایک دوسرے کو پکارتا ہے اور اس کی آواز کے پیچھے جاتا ہے مگر ملاقات سے محروم اور مضطرب رہتا ہے۔”سرخاب کا پر لگ جانا‘ ایک محاورہ ہے جو دولت پر غرور اور متکبر ہونے یا شان و شوکت میں کسی کو برابر نہ سمجھنے پر بولا جاتا ہے۔(فرہنگ آصفیہ)