خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 73

خطبات محمود ۷۳ سال ۱۹۳۹ء - پندرہ منٹ تک دیکھتا رہا کہ وہ اپنے ایک بعد میں آنے والے دوست کو برا بر اشارے کرتا رہا کہ آگے آ جاؤ۔اگر بچپن میں ماں باپ یا اُستاد یا دوسرے لوگ اُسے یہ بتاتے کہ یہ نا جائز ہے اور کہ جب تمہاری اپنی ہدایت کا سوال پیدا ہو جائے تو دوسرے کو گمراہی سے بچانے کا موقع نہیں ہوتا تو وہ اِس گناہ کا مرتکب نہ ہوتا۔یہ اس جوش کی وجہ سے کہ دوست آگے آ جائے اور خطبہ سُن لے اُسے اشارے کرتا تھا لیکن وہ شرم کی وجہ سے آگے نہ بڑھتا تھا اور اگر یہ مسئلہ بچپن سے ہی اس کے ذہن نشین ہوتا تو کبھی دوسری طرف اس کی نظر ہی خطبہ کے دوران میں نہ اُٹھتی اور اس کی طرح کسی کو اشارے کرنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا اور یہ دوسرے کی ہدایت کے جوش میں خود گمراہی کا مرتکب نہ ہوتا۔یہ تربیت سے تعلق رکھنے والے مسائل ہیں اور ان سے آوارگی دور ہوتی ہے۔پھر بچہ کو بر وقت کسی نہ کسی کام میں لگائے رکھنا چاہئے۔میں کھیل کو بھی کام ہی سمجھتا ہوں یہ کوئی آوارگی نہیں۔آوارگی میرے نزدیک فارغ اور بریکار بیٹھنے کا نام ہے یا اس چیز کا کہ بانہوں میں بانہیں ڈال لیں اور گلیوں میں پھرتے رہے۔اس بات کا اچھی طرح خیال رکھنا چاہئے کی کہ بچے یا پڑھیں یا کھیلیں یا کھائیں اور یا سوئیں، کھیل آوارگی نہیں۔اس لئے اگر وہ دس گھنٹے بھی کھیلتے ہیں تو کھیلنے دو۔اس سے ان کا جسم مضبوط ہو گا اور آوارگی بھی پیدا نہ ہو گی۔پس کھیلنا بھی ایک کام ہے جس طرح کھانا اور سونا بھی کام ہے مگر خالی بیٹھنا اور باتیں کرتے رہنا کی آوارگی ہے۔اس لئے خدام الاحمدیہ کو کوشش کرنی چاہئے کہ جماعت کے بچوں میں یہ آوارگی کی پیدا نہ ہو۔کسی کو یونہی پھرتے دیکھیں تو اس سے پوچھیں کہ کیوں پھر رہا ہے۔اگر باز نہ آئے تو محلہ کے پریذیڈنٹ کو رپورٹ کریں اور ان سب باتوں کے لئے اصول وضع کریں جن کے ماتحت کام ہو۔میں نے دیکھا ہے کئی لوگ گھنٹوں دکانوں پر بیٹھے فضول باتیں کرتے رہتے ہیں حالانکہ اگر اُسی وقت کو وہ تبلیغ میں صرف کریں تو کئی لوگوں کو احمدی بنا سکتے ہیں لیکن فضول وقت ضائع کر دیتے ہیں اور اگر کام کے لئے پوچھا جائے تو کہہ دیتے ہیں کہ فرصت نہیں۔حالانکہ اگر فرصت نہیں ہوتی تو دکانوں پر کس طرح بیٹھے باتیں کرتے رہتے ہیں؟ ایک اور ذریعہ اصلاح کا یہ بھی ہے کہ بیٹھ کر علمی اور دینی باتیں کی جائیں۔اچھے انداز میں گفتگو کرنا بھی ایک خاص فن ہے۔ایسی مجلسوں میں علمی اور دینی باتیں ہوں لیکن بحث مباحثہ نہ ہو۔اس چیز کو بھی میں آوارگی