خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 602 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 602

خطبات محمود ۶۰۲ سال ۱۹۳۹ء ابھی کنارہ نہیں آیا بلکہ پہلے تو میں نے کہا تھا کہ نہیں آیا مگر اب یہ کہتا ہوں کہ نہیں آ سکتا۔اگر دس ارب سال بھی گزر جائیں بلکہ دس ارب x دس ارب سال بھی گزرجائیں اور ایسا سبک رفتار انسان ہو جیسے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں تب بھی وہ کنارہ نہیں آ سکتا۔آج جب میں خطبہ کے لئے کھڑا ہوا تو جیسا کہ میرا عام طریق ہے سوائے اس کے کہ ان ایام میں تحریک جدید وغیرہ کی قسم کا کوئی خاص مضمون بیان کرنا ہو کوئی موضوع ذہن میں رکھ کر نہیں آیا کرتا۔آج بھی کوئی مضمون میرے ذہن میں نہ تھا مگر جب مؤذن نے اذان کہی اور کی میں نے دُعا پڑھی اور اس میں یہ الفاظ تھے اتِ مُحَمَّدَنِ الْوَسِيْلَةَ وَ الْفَضِيلَةَ - تو میرا ذہن فوراً اس معترض کے اعتراض اور اس کے جواب کی طرف پھر گیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ میں آج اسی کے بارہ میں خطبہ بیان کروں۔تو سوچنا چاہئے کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت حاصل نہیں۔وسیلہ کے معنی قرب کے ہیں اور جب ہم یہ دُعا کرتے ہیں تو کی اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اے خدا! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو اپنا قرب اور بزرگی عطا فرما۔اب اگر تو اس کے یہ معنے ہیں کہ تقرب اور فضیلت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل نہیں تو اسلام کی بنیاد ہی باقی نہیں رہتی اور اگر حاصل ہے تو ایسی دُعا کرنا بیوقوفی ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ کسی شخص نے قلم تو کان پر رکھا ہو اور تلاش کرتا پھرے کہ کہاں گیا۔پس اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو وسیلہ اور فضیلت حاصل ہے تو پھر اس دُعا کے کیا معنے مگر حقیقت یہی ہے جو میں نے بیان کی ہے کہ آپ کو وسیلہ بھی حاصل ہے اور فضیلت بھی مگر جب اس کا ایک درجہ حاصل ہو جاتا ہے تو دوسرا سامنے آجاتا ہے۔ہمارا خدا ایسی شان اور مرتبہ والا ہے کہ جب اس کے دربار میں ایک درجہ حاصل ہوتا ہے تو سینکڑوں اور نظر آنے لگتے ہیں اور آپ نے خود ہر اذان کے بعد مسلمانوں کو یہ دعا سکھائی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ جو مسلمان یہ کہے کہ آپ نے کی سارے مقام طے کر لئے ہیں اُسے یہ دُعا نہیں مانگنی چاہئے کیونکہ کسی چیز کے مل جانے کے بعد اس کے لئے دُعا کرنا فضول ہے۔پس جو شخص یہ سمجھے گا کہ آپ کے لئے اب کوئی درجہ باقی نہیں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم پر عمل کرنے سے بھی محروم رہے گا۔آپ کے دُعا سکھانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وسیلہ اور فضیلت کی اتنی راہیں ہیں کہ کبھی ختم