خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 58

خطبات محمود ۵۸ سال ۱۹۳۹ء زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔بہر حال چونکہ حکومت برطانیہ نے ہمیں تبلیغ کی عام اجازت دے رکھی ہے اور ایک مذہبی جماعت ہونے کی وجہ سے اس اجازت کا ہمیں بہت بڑا فائدہ ہے اس لئے ہم ہر قربانی کر کے بھی حکومت کا ساتھ دیں گے تا کہ ہماری اس تبلیغ کی آزادی میں کوئی روک واقع نہ ہو اور اگر یہ جنگ میری زندگی میں ہوئی تو یقیناً میں اپنا پورا زور اس بات پر صرف کروں گا کہ جس حد تک جماعت احمد یہ اس نظام کے قیام کے لئے قربانی کر سکتی ہے اُس حد تک قربانی کر کے دکھائے تا کہ وہ امن جو تبلیغ کے راستہ میں ہمیں حاصل ہے اس میں کوئی خلل کی نہ آئے۔ہم بے شک اس الزام کو ر ڈ کرتے ہیں کہ جماعت احمد یہ انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔ہم انگریزوں کے ایجنٹ کس طرح ہو سکتے ہیں جب کہ ہم اٹلی میں بھی رہتے ہیں ، امریکہ میں بھی رہتے ہیں، چین میں بھی رہتے ہیں ، جاپان میں بھی رہتے ہیں اور مصر، شام اور فلسطین وغیرہ میں کی بھی رہتے ہیں اور ہر جگہ کے احمدی وہاں کی حکومتوں کے ساتھ کامل تعاون کرتے اور ان کے احکام کی اسی طرح اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہیں جس طرح ہم حکومتِ برطانیہ کی یہاں کی اطاعت کرتے ہیں۔ہم یہ کبھی پسند نہیں کر سکتے کہ جرمنی کے ماتحت رہنے والے احمدی جرمنی کی غداری کریں یا اٹلی کے ماتحت رہنے والے احمدی اٹلی کی غذاری کریں یا امریکہ کے ماتحت رہنے والے احمدی امریکہ کی غداری کریں۔ہم ہر جگہ کے احمدیوں کو یہی ہدایت کریں گے کہ وہ کی اپنی اپنی حکومتوں کے احکام کے تابع رہیں اور جب تک وہ دن نہیں آتا کہ ہر حکومت کے ماتحت رہنے والے احمدی اپنی اپنی حکومتوں کو اس بات پر مجبور کر سکیں کہ وہ لڑائی نہ کریں اور صلح کے ساتھ رہیں تو اُس وقت تک جس نظام کے ماتحت بھی ہماری جماعت کے افرادر ہتے ہوں اُن کا فرض ہے کہ اُس نظام کی اطاعت کریں اور اسی رنگ میں ہم حکومت برطانیہ کی ہر وقت اطاعت کرتے اور ہر وقت اس کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔پس ہم انگریزوں کے ایجنٹ نہیں بلکہ ہم اپنی مذہبی تعلیم کی وجہ سے اس بات پر مجبور ہیں کہ جس حکومت کے ماتحت رہتے ہوں اُس کے احکام کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کریں۔خواہ وہ حکومت انگریزوں کی ہوا اور خواہ اٹلی اور جرمنی والوں کی ہو۔جب حکومت پنجاب کے بعض افسروں کے ساتھ جھگڑا شروع ہو ا تھا اُسی وقت میں۔