خطبات محمود (جلد 20) — Page 570
خطبات محمود ۵۷۰ سال ۱۹۳۹ء میں پڑھتا رہا ہوں لیکن جس طرح یہاں جلوسوں میں کیا جاتا ہے اس طرح نہ میں نے کبھی کچ کیا ہے اور نہ میری فطرت اسے برداشت کر سکتی ہے۔ہاں بعض ادعیہ حدیثوں سے ثابت ہیں ان کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شعر بھی ہوتے تھے اور پڑھے بھی جاتے تھے اور وہی طریق اب تم بھی اختیار کر سکتے ہو مگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے فعل پر زیادتی کی کیا ضرورت ہے۔جلوس کی صورت میں جمع ہو کر چلنا ثابت ہے اور پھر یہ بھی ثابت ہے کہ جب دو جماعتیں آپس میں ملیں تو بلند آواز سے تکبیر یا تسبیح و تحمید بھی کریں۔عید کے موقع پر بھی ایسا کرنے کا حکم ہے اور ہم کرتے ہیں مگر یہ جلوس نکالنے والے عید پر تکبیر اور تسبیح و تحمید نہیں کرتے۔ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ عید کے روز بھی یہ اسی طرح بلند آواز سے تکبیر اور تبیح و تحمید کہتے ہوئے جائیں۔میرا گلا خراب ہے میں خوش الحانی کے طور پر صرف اونچی آواز نکال سکتا ہوں ہلکی نہیں نکال سکتا اور اگر آہستہ تلاوت کرنا چاہوں یا شعر پڑھنا چا ہوں تو آواز منہ میں ہی رہ جاتی ہے یا تو آواز بالکل چھوٹی نکلے گی یا بہت بڑی مگر پھر بھی میں کوشش کر کے بڑی عید کے موقع پر جب ایسا کرنے کا حکم ہے تکبیر اور تسبیح و تحمید کرتا ہوں مگر یہ جلوس نکال کر شور کرنے والے چپ کر کے پاس سے گزر جاتے ہیں۔پس اگر اس رنگ میں جو کہ میں نے بتایا ہے اور جو اسلامی جلوس کا رنگ ہے کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔اس طرح ذکر الہی کی کثرت ثواب کا بھی موجب ہے اور دوسرے اگر نقل کریں تو ان کے دلوں میں بھی خدا کی بڑائی پیدا ہو گی اور کی پھر ان کو بھی ثواب ہو گا لیکن جس طرح یہاں عام طور پر جلوس نکالے جاتے ہیں ان کا ثبوت اسلامی تاریخ میں نہیں ملتا۔اسی طرح چراغاں کا سوال ہے۔مجھ سے میری ایک لڑکی نے سوال کیا۔اس نے کہا میں نے اپنی فلاں عزیز سے پوچھا تھا تو اس نے کہا کہ مجلس شوری میں حضرت (خلیفہ اسیح) نے چراغاں کرنے سے جماعت کو منع کیا تھا افراد کو نہیں۔میں نے کہا ہاں یہ درست ہے اس قدر بات بالکل درست تھی کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ میں نے افراد کو منع نہیں کیا کی تھا مگر اس وقت افراد کا سوال بھی تو پیش نہ تھا۔پھر اس کے بعد یہ بازگشت میرے کانوں میں آنی شروع ہوئی کہ افراد بیشک چراغاں کریں۔حالانکہ شوریٰ کے موقع پر جماعت کو منع کرنے کے یہ معنے نہیں تھے کہ افراد بیشک کریں۔اُس وقت چونکہ جماعت ہی کے بارہ میں مجھ سے سوال کیا