خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 571

خطبات محمود ۵۷۱ سال ۱۹۳۹ء گیا تھا میں نے اتنا ہی جواب دے دیا۔افراد کے متعلق نہ مجھ سے پوچھا گیا اور نہ میں نے بتایا۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑھیا عورت آئی جو حضرت کی خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلی تھی اس کے ساتھ بوجہ اس کے کہ وہ عمر میں بڑی تھی آپ اس قسم کی بے تکلفی فرما لیتے تھے جیسا کہ بڑوں سے انسان کر لیا کرتا ہے۔اس نے دریافت کیا یا رسول اللہ ! کیا میں جنت میں داخل ہوں گی ؟ آپ نے فرمایا کوئی بڑھیا جنت میں داخل نہیں ہو سکے گی سے جی در حقیقت اس کا سوال بیوقوفانہ تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پتہ کہ کون جنت میں داخل ہو گا ؟ پس آپ نے سوال کے رنگ میں ہی جواب دیا اور فرمایا کہ کوئی بڑھیا جنت میں داخل نہیں ہو گی۔اس کا مطلب یہ تھا کہ جنت میں سب جوان ہوں گے۔آخر جنت کی نعماء حظ اُٹھانے کے لئے ہیں اور اگر نہ منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت ہو، کمر جھکی ہوئی ہو ، آنکھیں بصارت کھو چکی ہوں تو جنت کی نعماء سے انسان کیا فائدہ اُٹھا سکتا ہے؟ پس آپ کا جواب بالکل درست تھا اور سوال کے مطابق الفاظ میں دیا گیا تھا۔اس عورت نے نہ غور کیا اور نہ آپ سے و چھا بلکہ یہ بات سنتے ہی رونے لگ گئی۔اس پر آپ نے فرمایا تم روتی کیوں ہو؟ اس نے کہا اس لئے کہ آپ فرماتے ہیں تو جنت میں داخل نہیں ہو گی۔آپ نے فرمایا میں نے یہ تو نہیں کہا تج کہ تم داخل نہیں ہوگی۔میں نے تو کہا ہے کہ کوئی بڑھیا داخل نہیں ہو سکے گی اور یہ صحیح بات ہے کیونکہ جنت میں سب جوان ہو کر داخل ہوں گے۔تو اسی رنگ میں اپنی لڑکی کو جواب دیا اور کہا کہ میں نے افراد کو چراغاں سے منع نہیں کیا تھا۔میرا مطلب یہ تھا کہ شوری میں سوال ہی جماعت کا تھا ورنہ مذہبی خوشیوں کے مواقع پر چراغاں شریعت سے ثابت نہیں۔ہاں عیسائیوں سے ثابت ہے۔بعض نقال کہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بادشاہ کی جو بلی پر چراغاں کیا۔مگر بادشاہ کی جو بلی پر تو میں بھی کرنے کو تیار ہوں۔سوال تو یہ ہے کہ کیا تی خلافت جو بلی پر بھی ایسا کرنا جائز ہے؟ ہمیں کئی ہندو ملتے ہیں اور ہاتھ سے سلام کرتے ہیں اور جواب میں ہم بھی اس طرح کر دیتے ہیں مگر مسلمان کو تو اس طرح نہیں کرتے بلکہ اسے تو السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتے ہیں تو جن چیزوں کی حرمت ذاتی نہیں بلکہ نسبتی ہے بلکہ حرمت ہے ہی نہیں صرف کراہت ہے اسے ہم اپنے لئے تو اختیار نہیں کر سکتے ہاں دوسرے کے لئے کرنے کو تیار ہیں۔جب تر کی سفیر