خطبات محمود (جلد 20) — Page 529
خطبات محمود ۵۲۹ سال ۱۹۳۹ء تو جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرے گا اور آپ کا نقش اپنے اندر پیدا کی کرے گا قیامت کے دن وہ کیوں خدا کو پیارا نہیں ہوگا اور کیوں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ کی و آلہ وسلم کو محبوب نہیں ہوگا اور شفاعت کے معنے بھی یہی ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کریں گے کہ یا اللہ یہ بھی میرے ساتھ ملتا ہے، یا اللہ وہ بھی میرے ساتھ ملتا کی ہے اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملتا جلتا ہوگا یہ ناممکن ہے کہ خدا اُس سے محبت نہ کرے۔تو اعمال میں کمال پیدا کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ انسان نوافل ادا کرے تا کہ اس کی جو کو تا ہیاں ہیں وہ دور ہو جائیں او جو زائد نیکیاں ہوں وہ اسے اللہ تعالیٰ کے اور زیادہ انعامات کا مستحق بنادیں۔در حقیقت اللہ تعالیٰ کی ذات فرض سے مشابہت رکھتی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات نفل سے۔جس طرح فرضوں کے ساتھ نوافل کا ہونا ضروری ہے اسی طرح لَا إِله إِلَّا الله کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کہنا بھی ضروری ہے اور جس طرح نوافل کے بغیر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں ہو سکتا اسی طرح کوئی شخص اس وقت تک اللہ تعالیٰ کا محبوب نہیں بن سکتا جب تک وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل اطاعت نہ کرے۔یہ سبق ہے جو ہماری جماعت کو نہ صرف رمضان میں بلکہ رمضان کے بعد بھی یا درکھنا چاہئے مگر بہت لوگ ایسے ہیں جو عید کے دن ہی سبق ان کو بھول جاتے ہیں۔وہ رمضان میں روزے کھیں گے، تہجد پڑھیں گے، تلاوت قرآن کریم کریں گے، ذکر الہی اور دُعاؤں پر زور دیں گے مگر جو نہی عید آئے گی وہ نیکی کے اس جبہ کو اُتار کر رکھ دیں گے اور کہیں گے اب یہ جبہ اگلے سال رمضان میں پہن لیں گے جس طرح غریب لوگ اپنے بعض اچھے کپڑے سنبھال کر رکھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کپڑوں کو ہم عید یا شادی بیاہ کے موقع پر پہنیں گے۔اسی طرح وہ عبادت کا کی جبہ رمضان میں تو پہنے رہتے ہیں جو نہی عید کا دن آتا ہے اس جبہ کو اُتار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب یہ جتبہ اگلے رمضان کو پہنیں گے حالانکہ عبادات کا جبہ رکھنے کے لئے نہیں بلکہ پہنے کے لئے ہوتا ہے۔باقی تمام کپڑے پہنے سے رفتہ رفتہ پھٹ جاتے ہیں مگر یہ وہ جتبہ ہے کہ اسے جتنا زیادہ پہنیں اُتنی ہی زیادہ اس میں صفائی پیدا ہوتی ہے۔پس بجائے اس کے کہ عید کے دن ہی کی