خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 528

خطبات محمود ۵۲۸ سال ۱۹۳۹ء عالم میں وفات پاچکا تھا۔وہ کشمیرن تھی اور اس کا بھائی بھی نہایت مضبوط جوان اور گورے رنگ کا تھا اور پیر منظور محمد صاحب بھی اپنی جوانی کے عالم میں بہت مضبوط جسم کے تھے اور ان کا رنگ بھی خوب گورا تھا۔پس انہیں دیکھ کر اس ملازمہ کو اپنا بھائی یاد آ گیا اور اس وجہ سے وہ خوب روئی۔تو مشابہت بھی انسان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے بلکہ شکل کی مشابہت تو الگ رہی جنس کی مشابہت بھی بعض دفعہ اپنی توجہ کھینچے بغیر نہیں رہتی۔آدمی سے آدمی یاد آ جاتا ہے اور بچے سے بچہ۔چاہے ان دونوں کی شکل کی آپس میں کوئی نسبت ہی نہ ہو۔بدر کی جنگ میں ایک عورت دیوانہ وار ادھر اُدھر دوڑ رہی تھی اور جہاں کہیں اسے کوئی بچہ نظر آتا اُسے اُٹھاتی گلے سے چمٹاتی کج اور پیار کر کے چھوڑ دیتی اور دیوانہ وار پھر دوڑ پڑتی۔پھر کوئی اور بچہ نظر آ تا تو اُسے سینہ سے چمٹاتی ، پیار کرتی اور اُسے وہیں چھوڑ کر پھر آگے دوڑ پڑتی۔یہاں تک کہ آخرا سے ایک بچہ ملا اس نے کی اس بچہ کو اُٹھایا ، سینہ سے لگایا اور پھر اُسے گود میں لے کر میدانِ جنگ میں ہی بیٹھ گئی اور اس کا جی تمام کرب اور اضطراب جاتا رہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا تم نے اس عورت کو دیکھا ؟ اُنہوں نے عرض کیا یا رَسُول اللہ ! دیکھا۔آپ نے فرمایا تم نے دیکھا کس طرح یہ مجنونانہ طور پر ادھر ادھر پھر رہی تھی ؟ جہاں اسے کوئی بچہ نظر آتا اُسے اُٹھاتی پیار کرتی اور پھر ایک دیوانگی اور جنون کی حالت میں دوڑ پڑتی۔مگر جب اس کو اپنا بچہ مل گیا تو اس کا تمام کرب اور اضطراب جاتا رہا اور وہ آرام سے اسے گود میں لے کر بیٹھ گئی۔پھر آپ نے فرمایا جس طرح یہ عورت اپنے بچہ کی تلاش میں مجنونانہ طور پر پھر رہی تھی اور اپنے بچہ کے لئے مضطرب اور بے تاب تھی اسی طرح خدا بھی اپنے گمراہ بندے کے لئے بے تاب ہوتا ہے اور جب وہ بندہ تو بہ کر کے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے تو اسے ایسی ہی راحت حاصل ہوتی ہے جیسی اس عورت کو کی اپنا بچہ پا کر حاصل ہوئی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔۱۳ تو مشابہتیں بلکہ بعض دفعہ ناقص مشابہتیں بھی انسان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو اپنے بچہ کی تلاش میں جب مجنونانہ وارا دھر اُدھر دوڑتے دیکھا تو آپ کو یہ نظارہ دیکھ کر وہ نظارہ یاد آ گیا جو ایک گنہگار بندہ کے تو بہ کرنے پر عالم بالا میں۔رونما ہوتا ہے اور یہ ناقص مشابہت آپ کے ذہن کو اس واقعہ کی طرف کھینچ کر لے گئی۔