خطبات محمود (جلد 20) — Page 527
خطبات محمود ۵۲۷ سال ۱۹۳۹ء میں بھی کوئی نہ کوئی نقص رہ جاتا ہے۔پس پوری نیست ، پورے اخلاص، پوری کوشش اور پوری کی سعی کے بعد جو نقص رہ جائیں گے ان کے دفعیہ کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور شفاعت کریں گے اور کہیں گے یا اللہ یہ مجھ سے ملتا جلتا ہے۔صرف تھوڑی سی اس میں کمی ہے تو میری دُعا اور التجا کی برکت سے اس کمی کو پورا فرما دے۔گویا شفاعت کیا ہے وہی وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہہ قُل اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحببكم الله - اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا چاہتے اور اس کا قرب حاصل کرنے کے خواہاں ہو تو میری اتباع کرو۔جب کوئی میری اتباع کرے گا تو خدا کہے گا یہ بھی میرے محمد جیسا ہے۔آؤ ا سے بھی میں اپنی گود میں بٹھالوں۔پس اگر تم میری اتباع کرو کے تو يُخبكُمُ اللهُ خدا تم سے محبت کرنے لگ جائے گا اور وہ کہے گا کہ اس کی شکل بھی میرے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی شکل کے مشابہہ ہے جیسے اگر اپنے بچہ کی شکل سے کسی اور بچے کی شکل ملتی جلتی ہو تو انسان کی اسے پیار کرنے لگ جاتا ہے۔اسی طرح خدا اس شخص سے پیار کرنے لگ جاتا ہے جس کی روحانی شکل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل سے ملتی جلتی ہو۔میرے بچپن کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے جو نقش فی الحجر کی طرح میرے دماغ میں محفوظ ہے۔حضرت خلیفہ اول کا ایک لڑکا ایک دفعہ فوت ہو گیا۔یہ عبدالحی مرحوم سے پہلے کی بات ہے۔مجھے اب اس وقت صحیح طور پر یاد نہیں کہ وہ آپ کا لڑکا تھا یا نواسہ۔بہر حال وہ آپ کے گھر کا ہی کوئی بچہ تھا۔ہمارے گھر سے والدہ وغیرہ بھی ادھر گئیں۔ان دنوں ہمارے گھر میں ایک ملازمہ تھی جس نے مجھے دودھ بھی پلایا تھا۔وہ ملازمہ والدہ کے ساتھ ہی تھی جب حضرت خلیفہ اول کے مکان پر وہ پہنچی تو وہ ملازمہ اتنا روئی اتنا روئی کہ گھر والوں کو بھی بچہ کی وفات پر اتنا رونا نہ آیا تھا اس کی ہچکی بندگئی اور رونا ختم ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔سب کو تعجب ہوا کہ یہ کیوں اس قدر رو رہی ہے مگر کسی کی سمجھ میں یہ راز نہ آتا تھا۔آخر والدہ صاحبہ نے اس سے پوچھا کہ تم اتنا کیوں رو رہی ہو ؟ ضرور اس میں کوئی بھید ہے۔پہلے تو اس نے نہ بتایا مگر جب اُنہوں کی نے زیادہ اصرار کیا تو وہ کہنے لگی کہ اصل بات یہ ہے کہ جب بچے کا جنازہ نکلا اور اس کے ساتھ میں نے پیر منظور محمد صاحب کو دیکھا تو ان کو دیکھ کر مجھے اپنا ایک بھائی یاد آ گیا جو عین جوانی کے