خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 516

خطبات محمود ۵۱۶ سال ۱۹۳۹ء عبادات کروا کے ہماری بعض اور کمزوریوں کو دُور کرتا ہے تو دوسری طرف وہ ہم پر ہمارے نفس کی کی اس کمزوری کو ظاہر کر کے بتا تا ہے کہ ہمارا نفس حکم ماننے کے لئے تو تیار ہے مگر خوشی اور مرضی سے عبادت کرنے کے لئے تیار نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرائض اس قسم کے جبری احکام نہیں ہوتے جیسے حکومتوں کے ہوتے ہیں۔حکومتوں کے احکام کی جب کوئی شخص تعمیل نہیں کرتا تو اسی وقت گرفت شروع ہو جاتی ہے، مقدمات چلتے ہیں اور بالآخر اسے سزا دے دی جاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی کے فرائض ایسے نہیں ہوتے۔بے شک قیامت کے دن ہر انسان اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے اعمال کے متعلق جوابدہ ہو گا مگر دُنیا میں ایسا نہیں ہوتا کہ جب کسی فرض کی ادائیگی میں کسی شخص سے کوئی کچ کوتا ہی ہو جائے تو آسمان سے فرشتے اُتریں، اس کا مقدمہ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو اور اس کے جُرم کی اُسے سزا مل جائے۔باوجود اس کے کہ اپنے دل میں ایمان رکھنے والا انسان سمجھتا ہے کہ یہ خدا کا فرض ہے کسی کی کوتاہی پر نہ فرشتے اُترتے ہیں نہ مقدمے ہوتے ہیں اور نہ سزائیں ملتی ہیں مگر اس کا دل جانتا ہے کہ اگر میں نے خدا تعالیٰ کے کسی مقرر کردہ فرض کو چھوڑا تو کی میں اس کی نظروں سے گر جاؤں گا۔اسی لئے جب کسی حکم کے ساتھ فرض کا لفظ آتا ہے تو وہ کی اُسے پورا کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے مگر جب کسی نیکی کے کام کے ساتھ نفل کا لفظ آ جائے تو کی وہ کہتا ہے اس کے بغیر بھی گزارہ ہو سکتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر کوئی شخص فرائض کو پوری طرح ادا کر دے تو وہ خدا تعالیٰ کے سامنے بری الذمہ ہو جاتا ہے مگر مشکل یہ ہے کہ فرائض کی ادا ئیگی نوافل کے بغیر پوری ہوتی نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں ایک دفعہ ایک شخص آیا۔صحابہ کہتے ہیں ہم آپ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمیں یوں آواز آنی شروع ہوئی جیسے گنگناہٹ کی ہوتی ہے اور ہمیں محسوس ہوا کہ کوئی شخص آ رہا ہے۔تیز چلنے کی وجہ سے کچھ اس کے کپڑوں میں سے آواز پیدا ہو رہی تھی اور کچھ آہستہ آہستہ وہ بولتا چلا آ رہا تھا اور ان دونوں آوازوں نے مل ملا کر ایک شورسا پیدا کیا ہوا تھا۔وہ کہتے ہیں تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک بدوی تمام صفوں کو چیرتا ہوا آگے آیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا پھر اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم