خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 486

خطبات محمود ۴۸۶ سال ۱۹۳۹ء رؤساء مکہ کا کوئی نہ کوئی احسان تھا مگر پھر وہ زمانہ آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ایک دفعہ حضرت عمرؓ حج کے لئے مکہ تشریف لے گئے تو حج کے بعد آپ کی ملاقات کے لئے لوگوں نے آنا شروع کر دیا۔انہی ملاقاتیوں میں مکہ کے رؤساء اور سرداران قریش کے بعض لڑکے بھی تھے۔حضرت عمر نے اُن کو عزت سے بٹھایا اور ان سے مختلف باتیں پوچھتے رہے۔اتنے میں ایک غلام صحابی آیا وہی غلام جو ابتدا یا سلام میں ان رؤساء عرب اور سردارانِ قریش کے باپ دادا کی جوتیاں کھایا کرتا تھا جسے وہ گلیوں میں گھسیٹتے اور اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مار مار کر زخمی کر دیتے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان نوجوانوں سے کہا ذرا پیچھے ہٹ جاؤ یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔وہ پیچھے ہٹ گئے اور وہ صحابی قریب ہو کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے باتیں کرنے لگ گیا۔اتنے میں ایک اور صحابی آ گیا۔حضرت عمرؓ نے پھر ان نوجوانوں سے کہا ذرا پیچھے ہٹ جاؤ اور ان کے لئے جگہ چھوڑ دو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔وہ نو جوان پھر پیچھے ہٹ گئے مگر اسی دوران کی میں تیسر اصحابی آ گیا اور حضرت عمرؓ نے ان سے پھر کہا کہ ان کے لئے جگہ خالی کر دو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔چونکہ حج کے ایام تھے اس لئے یکے بعد دیگرے کئی صحابہ آتے چلے گئے جن میں سے کئی ان رؤساء کے یا اُن کے باپوں کے غلام تھے اور حضرت عمر ہر صحابی کے آنے پر ان نوجوانوں سے یہی کہتے کہ ذرا پیچھے ہٹ جاؤ اور ان کے لئے جگہ خالی کر دو یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ جوتیوں تک جا پہنچے۔یہ دیکھ کر وہ اس مجلس سے اُٹھ کر باہر آ گئے اور ایسی حالت میں کہ ان کی آنکھوں سے آنسوں بھرے ہوئے تھے۔اُنہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا کیا کبھی یہ خیال بھی ہوسکتا تھا کہ ہم کسی زمانہ میں اس قدر ذلیل ہو جائیں گے کہ وہ لوگ جو ہماری جوتیاں اٹھانا اپنے لئے فخر کا موجب سمجھا کرتے تھے مجلس میں ایک ایک کر کے ہم سے آگے بٹھائے جائیں گے اور ہمیں ہٹنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے ہم جو نتیوں تک جا پہنچیں گے۔گویا وہ جو ذلیل تھے معزز ہو گئے اور ہم جو معزز تھے ذلیل ہو گئے۔یہ تمام نو جوان اگر چہ ایماندار تھے مگر غصہ اور جوش میں ان کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے لیکن ان میں سے ایک نوجوان کی