خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 438

خطبات محمود ۴۳۸ سال ۱۹۳۹ء دیں گے۔پھر وہاں سرکاری طور پر تمام لوگوں کو اس قسم کے تھیٹر دکھائے جاتے ہیں جن میں کی مذہب پر تمسخر اڑایا جاتا اور اس کی نفرت دلوں میں پیدا کی جاتی ہے لینن جو اس دہریت اور الحاد کا بانی ہے اس کے نام پر تھیڑ میں ایک شخص حج بنتا ہے اور اس کے سامنے بطور ملزم ایک شخص پیش ہوتا ہے اور اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ تمام ملک میں فساد اور لڑائیاں کراتا پھرتا ہے۔مہربانی کر کے آپ اس کا فیصلہ کریں۔وہ پوچھتا ہے یہ کون شخص ہے؟ تو آگے سے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ خدا ہے جو سارے جہان کے فسادات کا ذمہ دار ہے۔اس کے بعد خدا پر مقدمہ ہے اور آخر لیفن فیصلہ کرتا ہے کہ خدا کو (نعوذ باللہ ) پھانسی دے دیا جائے کیونکہ دُنیا میں جتنے فساد ہیں سب اسی کی وجہ سے ہیں۔چنانچہ سب کے سامنے اس مردود کو جو اپنے آپ کو خدا کہتا ہے پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے ( تمثیل کے طور پر نہ کہ حقیقتا ) اب بتاؤ جن قوموں کی یہ حالت ہو اور جو مذہب کی اس قدر دشمن ہوں ان کے متعلق یہ کہنا کہ وہ بیشک آجائیں ہمیں کوئی پرواہ کی نہیں کہاں کی دانشمندی ہے اور کیا کوئی بھی عقلمند اسے درست تسلیم کر سکتا ہے؟ اس اعتراض کی کی تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی کہہ دے میرا یہ مطلب نہیں تھا۔بیشک تبلیغی آزادی ایک بہت اہم چیز ہے لیکن آپ یہ کیوں خیال کرتے ہیں کہ اگر کسی اور حکومت نے مذہبی تبلیغ پر پابندیاں عائد کر دیں تو خدا تعالیٰ کا ہاتھ اسے سزا نہیں دے گا۔ہمارا اللہ حافظ ہے۔روس آجائے یا جرمنی جو بھی ہمارے مذہب میں مداخلت کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے مار ڈالے گا۔پس آپ نے کیوں کی تو کل چھوڑا اور کیوں یہ سمجھ لیا کہ انگریزی حکومت کے جانے سے اسلام اور احمدیت کو بھی ضعف پہنچے گا۔ہمارا خدا قادر ہے اور وہ ہر حالت میں امن قائم کر سکتا ہے۔یہ اعتراض بظاہر معقول نظر آتا ہے لیکن سُنت اللہ کے یہ بھی بالکل خلاف ہے۔سنت اللہ ہمیشہ دو طرح ظاہر ہوتی ہے ایک تو اس طرح کہ جس قوم کی مدد اور نصرت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہو اُس پر کوئی ایسی آفت آپڑے جن کا علاج انسانی ہاتھوں میں نہ ہوا ایسی حالت میں سنت اللہ یہی ہے کہ وہ خارق عادت طور پر اپنے دین کی حفاظت کرتا ہے مثلاً بالکل ممکن ہے کہ کسی جگہ طاعون پڑے اور مخالفوں پر تباہی آجائے لیکن مومن محفوظ رہیں یا زلزلہ سے دُشمن تباہ ہو جائیں مگر مومن محفوظ رہیں لیکن بعض مصیبتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے دور کرنے میں انسان کا