خطبات محمود (جلد 20) — Page 415
خطبات محمود ۴۱۵ ۲۷ سال ۱۹۳۹ء نبی کی موجودگی میں کونسا عذاب آ سکتا ہے اور کونسا نہیں؟ ( فرموده ۶ را کتوبر ۱۹۳۹ء بمقام ناصر آباد) تشہد ، تعوذ ، سورہ فاتحہ اور آیت مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيْهِمْ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ اے کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے ”الفضل میں اس آیت کے متعلق ایک مضمون دیکھا۔میرا ارادہ تھا کہ اس مضمون کو پڑھوں لیکن مصروفیت کی وجہ سے پڑھ نہ سکا مگر میں نے مناسب سمجھا کہ اس آیت کے متعلق کچھ بیان کر دوں۔عام طور پر اس آیت کا مفہوم یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب تک کوئی نبی کسی جگہ موجود ہو اس وقت تک کوئی عذاب اس جگہ نہیں آسکتا لیکن قرآن شریف کے بہت سے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ خود انبیاء کے وقت میں ان کی موجودگی میں عذاب آتے رہے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ان کی قوم پر کئی بار عذاب آیا۔ایک بار ان کی قوم نے ایک دوسری قوم کے ساتھ لڑائی کرنے سے احتراز کیا تھا اس پر وہ لوگ چالیس سال تک بھٹکتے پھرتے رہے ہے ایسا ہی جب انہوں نے ترکاریاں وغیرہ مانگی تھیں ان پر ذلت کا عذاب ڈالا گیا تھا۔سے پھر جب ان کو ایک دروازہ میں داخل ہونے کے لئے کہا گیا تھا اور انہوں نے ہدایت کی خلاف ورزی کی تھی اُس وقت بھی ان پر عذاب نازل ہوا تھا۔کے پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں بھی عذاب نازل ہو ا تھا۔