خطبات محمود (جلد 20) — Page 413
خطبات محمود ۴۱۳ سال ۱۹۳۹ء نتیجہ میں ایمان بھی کمزور ہو جاتا ہے کم از کم اس معاملہ میں ہماری جماعت کی مثال من چہ سرائم و طنبوره من چہ سرائڈ والی نہیں ہونی چاہئے کسی حنفی کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی کی قبر کی طرف منہ کر کے نماز تک پڑھنا جائز سمجھتا تھا۔کسی نے اُسے کہا کہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی تو حنفی نہیں تھے وہ تو خیلی تھے وہ کہنے لگا حضرت ان کا مذہب اور میرا مذ ہب اور۔تو یہ مقام کوئی خوشکن مقام نہیں کہ تمہارا طریق اور ہو اور میرا طریق اور۔باقی اللہ تعالیٰ سے دعا ئیں بھی کرو کہ وہ اس عظیم الشان بلا سے ہماری جماعت کو محفوظ رکھے۔اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ رویا میں لَا يَدَ انِ لِاَحَدٍ بِقِتَالِهِمَا کا نکتہ مجھ پر کھولا۔حقیقت یہی ہے کہ ہمارے اندر یہ طاقت تو نہیں کہ ہم آمنے سامنے ہو کر ان کا مقابلہ کریں لیکن خدا کی طرف ہم اپنے ہاتھوں کو بلند کر سکتے ہیں اور یقیناً اگر ہم اس سے دعائیں کریں تو وہ ہماری سنے گا اور ہماری تائید کے لئے غیر معمولی کی سامان پیدا کر دے گا۔پس یہ جو آفتیں آنے والی ہیں ان پر اصل غلبہ دعا کے ذریعہ ہی ہوگا اور کیا تعجب ہے کہ اس جنگ میں ایک وقت ایسا آ جائے جب کہ اتحادی ہم سے دُعا کی درخواست کریں اور جیسا کہ رویا بتاتی ہے اگر وہ اخلاص سے اس طرف توجہ کریں تو خدا تعالیٰ میری دُعا کی برکت سے یہ مصیبت ان سے دور کر دے گا لیکن ابھی ان کے دماغ اس مقام پر نہیں آئے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں بلکہ اس وقت اگر کسی انگریز کے سامنے میری اس تقریر کا یہ حصہ رکھ دیا جائے تو وہ کہے گا کہ یہ کوئی پاگل ہے جو پاگل خانے سے چھوٹ کر آیا ہے۔کیا ہماری حفاظت کے لئے ہمارے پاس توپ خانے اور بحری بیڑے اور ہوائی جہاز اور بڑے بڑے اسلحہ موجود نہیں اور اگر ان ہتھیاروں کے باوجود ہمیں فتح حاصل نہ ہو تو اس کی دُعا سے کس طرح فتح حاصل ہو سکتی ہی ہے؟ مگر جب مصائب آتے ہیں تو اس وقت ذہن خود بخودان باتوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔پس کیا تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ اسلام کی صداقت کا ایک زندہ نشان اس طرح دکھا دے کہ جب ان کی مصیبتیں بڑھ جائیں اور انہیں ان کا کوئی علاج نظر نہ آئے تو وہ جماعت احمد یہ اور اس کے امام سے کہیں کہ آپ ہماری اس مصیبت کے دور ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دُعا کریں اور جب ہم اس درخواست کے بعد دُعا کریں گے تو میں اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتا ہوں کہ وہ ان وعدوں کے مطابق جو اس نے ذاتی طور پر مجھ سے کئے اور ان وعدوں کے مطابق