خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 389

خطبات محمود ۳۸۹ سال ۱۹۳۹ء نہیں تھی اور کئی جگہ پیدل جانا پڑتا تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بھی دوست تھے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دعویٰ کیا کہ حضرت مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں اور اپنی مسیحیت کا بھی اعلان کیا تو تمام ہندوستان میں ایک شور مچ گیا۔ان دنوں لاہور میں حضرت خلیفہ اول جموں سے رخصت لے کر آئے ہوئے تھے۔مولوی محمد حسین بٹالوی بھی وہاں جا پہنچے اور انہوں نے آپ کو مباحثہ کا چیلنج دے دیا اور کہا کہ صرف حدیثوں سے وفات مسیح کے مسئلہ پر بحث ہونی چاہئے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے کہ حدیث حاکم نہیں بلکہ قرآن حاکم ہے۔پس ہمیں اس معاملہ میں قرآن کریم کی آیات سے فیصلہ کرنا چاہئے۔اس پر کئی دن بحث ہوتی رہی اور ایک دوسرے کی طرف سے اشتہارات بھی نکلتے رہے۔وہ چونکہ دونوں کے دوست تھے اس لئے اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ اس جھگڑے کو نپٹا نا چاہئے۔اُنہوں نے اپنے دل میں یہ سمجھا کہ مرزا صاحب نیک آدمی ہیں اُنہوں نے کوئی ایسی کی بات کہی ہو گی جسے مولوی محمد حسین بٹالوی سمجھے نہیں اور چونکہ ان کی طبیعت میں غصہ زیادہ ہے اس لئے وہ جوش میں آ کر مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہوں گے ورنہ یہ نہیں ہوسکتا کہ مرزا صاحب قرآن کریم کے خلاف کوئی بات کہیں اور ان پر کفر کے فتویٰ لگانے کی ضرورت پیش آ جائے۔یہ مخالفت ضرور کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور میرا فرض ہے کہ میں اس کو دور کروں۔چنانچہ وہ بڑے جوش سے قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے میں نے سُنا ہے آپ کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔آپ نے فرمایا ہاں۔وہ کہنے لگے میں تو سمجھتا تھا آپ نے قرآن کے خلاف کوئی بات نہیں کہی ہو گی اور مولوی محمد حسین بٹالوی یونہی کسی غلط فہمی کے ماتحت آپ کے دشمن ہو گئے ہیں مگر اب معلوم ہوا کہ آپ نے واقع میں قرآن کے خلاف عقیدہ اختیار کر لیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا یہ قرآن کے خلاف عقیدہ نہیں بلکہ اس کے عین مطابق ہے۔وہ کہنے لگے اگر قرآن سے یہی ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو کیا آپ اپنا یہ عقیدہ ترک کر دیں گے۔حضرت مسیح موعود کی علیہ السلام نے فرمایا کیوں نہیں۔اگر قرآن سے یہ ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو میں انہیں زندہ ماننے لگ جاؤں گا۔انہوں نے کہا میں پہلے ہی کہتا تھا کہ