خطبات محمود (جلد 20) — Page 377
خطبات محمود ۳۷۷ سال ۱۹۳۹ء تو وہ اکیلا تمام دنیا کے مقابلہ میں لڑ کر مر جانے کے لئے تیار ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے جو فرض اس پر عائد کیا گیا ہے وہ چونکہ اسے اپنے جذبات کے دبانے کا حکم دیتا ہے۔وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے اور بغاوت یا فساد کے طریق کو اختیار نہیں کرتا اور یہ کام اس کا بزدلی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اعلیٰ ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے ہوتا ہے۔دُنیا نے آج تک معمولی ایمان والوں کو بھی کفار کے مقابلہ میں ڈرتے نہیں دیکھا۔گجا یہ کہ وہ لوگ ڈریں جن کے ایمان مضبوط ہوں اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے انوار کو اپنی آنکھوں کی سے آسمان سے اُترتے دیکھا ہو۔صحابہ کی قربانیاں تو الگ رہیں تنزل کے زمانہ میں ان مسلمانوں کو جو قُر بانیاں کرنی پڑیں جن کے ایمان صحابہ کی طرح مضبوط نہیں تھے وہ بھی ایسی شاندار ہیں کہ انہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔سپین میں مسلمانوں کا جو حشر ہو اوہ مسلمانوں کی تاریخ میں ایک تاریک ترین لمحہ تھا۔میں سمجھتا ہوں کوئی مسلمان جس کے دل میں ایک ذرہ بھر بھی ایمان ہو وہ سپین کے مسلمانوں کی اُس کی آخری جنگ کے حالات پڑھ کر جو انہیں عیسائیوں سے لڑنی پڑی بغیر اس کے نہیں رہ سکتا کہ اس کا دل خون ہو جائے اور اس کی آنکھیں پرنم۔وہ کبھی ٹھنڈے دل سے ان واقعات کو نہیں پڑھ سکتا۔وہ کبھی خشک آنکھوں سے ان واقعات کو نہیں پڑھ سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ کوئی درد رکھنے والا مسلمان ساکن جسم سے ان واقعات کو نہیں پڑھ سکتا۔ایک ذرہ بھر ایمان رکھنے والا مسلمان بھی جب ان واقعات کو پڑھتا ہے اس کا دل دھڑ کنے لگ جاتا ہے۔اس کے آنسورواں ہو جاتے ہیں اور اس کا جسم کانپنے لگ جاتا ہے۔اسلام کی فوقیت کا جھنڈا لہرانے والا وہ ملک جس نے یورپ پر سینکڑوں سال تک حکومت کی اور جس نے اسلام کی برتری اور فوقیت کو نہایت کی مضبوطی سے قائم رکھا اس میں سے جب مسلمان نکلنے پر مجبور ہوئے تو انہیں حکم دے دیا گیا کہ وہ اپنا بوریا بستر باندھ لیں اور چند ہفتوں کے اندر اپنے ملک کو خیر باد کہہ دیں ورنہ ان سب کو قتل کر دیا جائے گا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ملک جس نے اسلام کی شان و شوکت کو اس طرح قائم رکھا کہ شاید بغداد کی اسلامی حکومت بھی اُس طرح اسلامی شان وشوکت کو قائم نہیں رکھ سکی۔آج وہاں اسلام کا نام ونشان بھی نہیں۔سوائے ان چند عمارتوں کے جو مسلمانوں نے عہدِ ماضی کی یادگار کی