خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 327

خطبات محمود ۳۲۷ سال ۱۹۳۹ء بنی ہوئی مہنگی ، ایک کی کمزور اور دوسرے کی مضبوط ہوتی ہے۔جو لوگ بھیڑ چال کے عادی ہی ہوتے ہیں وہ محنت نہیں کرتے اور تلاش کر کے نہیں خریدتے بلکہ مہنگی لے آتے ہیں اور پھر مہنگی ہی فروخت کرتے ہیں۔دکاندار بڑی بڑی قسمیں کھاتے ہیں کہ یہ چیز اتنی ہی قیمت کی ہے اور وہ اس پر اعتبار کر کے خرید لاتے ہیں۔میں نے سُنا ہوا تھا کہ بمبئی میں بعض ہوشیار لوگ معمولی قلم آٹھ آٹھ دس دس روپیہ کو فروخت کر دیتے ہیں اور ایک دفعہ مجھے بھی اس کا تجربہ ہو گیا۔میں کی بازار سے گزر رہا تھا کہ ایک شخص نے اسی طرح آنوں بہانوں سے میرے پاس ایک قلم بیچنا چاہا۔اس نے بتایا کہ یہ دس روپیہ کا ہے۔ضرورت کی وجہ سے فروخت کرتا ہوں۔آپ پانچ روپیہ کی میں لے لیں۔میں نے انکار کیا تو اُس نے کہا چار میں لے لیں اور پھر آٹھ آنہ تک پہنچ گیا تو کی بعض دوکاندار قسمیں کھا کر چیز مہنگی فروخت کر دیتے ہیں ہمارے تاجر اُن کی قسموں پر اعتبار کر کے لے آتے ہیں اور پھر حرام ذرائع سے اسے سستا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا مقابلہ کی کرسکیں۔ٹکٹ کلکٹروں سے یارا نہ گانٹھ لیتے ہیں یا ان کو کچھ دے دیتے ہیں اور اس طرح مہنگی خریدی ہوئی چیز کی قیمت کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم جب ولایت سے واپس آنے لگے تو ایک دن اہل وعیال کے لئے بعض تحائف وغیرہ خریدنے کے لئے مقرر کیا۔میں بھی بعض کی چیزیں تلاش کر کے خرید لایا۔ایک چیز میں دو، چار روپے میں لایا۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔واپسی پر دوستوں نے پوچھا کہ آپ نے یہ کہاں سے خریدی ہیں۔میں کی نے کہا کہ کہیں سے تلاش کر کے لایا ہوں۔آپ بھی لے آئیں میں نے تو مذاقا یہ بات کہی تھی مگر دوستوں نے خیال کیا شاید یہ بتانا نہیں چاہتے اور بغیر علم حاصل کئے سودا خرید نے چلے گئے اور ی شام کو واپس آئے تو بتایا کہ وہ چیز کوئی دکاندار دس روپے سے کم میں نہیں دیتا۔اس لئے وہ نہیں لائے۔مجھے وہ چھ شلنگ میں ملی تھی مگر ان کو سولہ شلنگ میں ملتی تھی حالانکہ چیز ایک ہی تھی۔در دصاحب نے وہاں رہنا تھا اس لئے ان کے کپڑوں کی ضرورت تھی۔میں نے مختلف فرموں سے خط و کتابت کر کے ایک جگہ سے ان کو کپڑے بنوا دیئے۔بعد میں ان کو وہ ایڈریس بھول گیا۔اُنہوں نے مجھے لکھا کہ اتنا سستا کپڑا اور کہیں تیار نہیں ہوتا وہی ایڈریس آپ کو یاد ہو تو بتا ئیں۔جو لوگ وہاں چار چار پانچ پانچ سال سے رہتے تھے انہوں نے بھی کہا کہ اتنی سستی چیزیں