خطبات محمود (جلد 20) — Page 316
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء کم ہورہی ہے۔ان کی زندگی وحوش کی سی ہے بلکہ وحوش کی زندگی ان سے اچھی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِن هُم اِلَّا الأَنْعَامِ بَلْ هُمُ آل انسان چوری کرتا ہے کسی کا مال اُٹھا کی کرلے جاتا ہے تو یہ فعل بُراسمجھا جاتا ہے لیکن ایک گتا اُٹھا کر لے جائے تو یہ فعل اس کے لئے بُرای نہیں کیونکہ وہ اس قانون کا پابند نہیں جس کا انسان پابند ہے۔وحوش بھی کسی قانون کے ماتحت ہیں اور جو باتیں ان کی سرشت میں ودیعت کی گئی ہیں وہ ان کی پابندی کرتے ہوئے جان تک دے دیتے ہیں۔ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ آبادی سے دُور جنگل میں رہتے تھے۔ان کو کی اسی جنگل میں ہمیشہ کھانا پہنچ جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے کچھ آزمائش کی اور ان کو تین کی دن تک کھانا نہ آیا۔اس پر گھبرا کر وہ شہر کی طرف چل پڑے اور ایک دوست کے مکان پر پہنچے ؟ جس نے تین روٹیاں اور سالن دیا۔وہ لے کر پھر جنگل کی طرف چل پڑے۔شاید روزہ ہوگا اور روزہ کھول کر کھانا کھانا ہوگا۔کھانا دینے والے کا کتا بھی ساتھ چل پڑا۔اُنہوں نے دیکھا تو ایک روٹی اور تہائی سالن اُسے ڈال دیا کہ اس کا بھی حق ہے۔وہ کھا کر پھر پیچھے چل پڑا۔اُنہوں نے پھر بقیہ کا نصف اسے ڈال دیا۔وہ پھر کھا کر پیچھے ہولیا۔اس پر انہوں نے غصہ سے کہا کہ کیسا بے شرم ہے تین میں سے دو روٹیاں اس کے آگے ڈال چکا ہوں پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔ان الفاظ کا ان کے منہ سے نکلنا تھا کہ معاً اُنہوں نے کشفی حالت میں گتے کو دیکھا کہ سامنے کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ بے شرم میں ہوں کہ تم ہو؟ میں لمبے عرصہ سے اپنے مالک کے دروازہ پر پڑا ہوں اور بعض اوقات سات سات روز تک مجھے فاقے پر فاقے آتے ہیں مگر مجھے خیال تک نہیں آتا کہ اس کا دروازہ چھوڑ کر کسی اور کے دروازے پر چلا جاؤں۔ایک تم ہو کہ تین دن کھانا نہیں ملا تو بھاگ کر شہر کی طرف آگئے۔اس کشف سے وہ ایسے متاثر ہوئے کہ بقیہ کھانا بھی گننے کے آگے پھینک کر خالی ہاتھ جنگل کی طرف چل پڑے۔یہ خدا تعالیٰ نے اس بزرگ کو سمجھانے کے لئے کیا اور وہ سمجھ گئے۔واپس گئے تو جیسا اللہ تعالیٰ ان کے لئے پہلے کھانے کا سامان کر دیا کرتا تھا کسی کے دل میں ڈالا اور وہ کھانا لئے ان کا انتظار کر رہا تھا کہ نہ معلوم آج کدھر چلے گئے۔سوان جانوروں کے لئے انسانی قانون نہیں مگر جو قانون ان کے لئے مقرر ہے وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ان میں وفاداری ہوتی ہے ، جان بھی دے دیتے ہیں۔