خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 317

خطبات محمود ۳۱۷ سال ۱۹۳۹ء اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بل هم اضل فرمایا ہے کہ انسانی زندگی ان جانوروں سے بھی بدتری ہوتی ہے سوائے ان لوگوں کی زندگی کے جو اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلتے ہیں۔انسان اپنی رنگ رلیوں میں لگا رہتا ہے۔یہ نہیں سمجھتا کہ اس پر قوم کی کیا ذمہ داری ہے ، ملک کی کیا ذمہ داری ہے اور بحیثیت انسان کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور بحیثیت مخلوق کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ مومن کو سیدھا راستہ اختیار کرنا چاہئے اور بُری عادات چھوڑنی چاہئیں۔بیشک ایک دن میں انسان کامل نہیں ہو سکتا لیکن صحیح راستہ پر چل رہا ہو تو ایک نہ ایک دن وہ منزل تک پہنچ ہی جائے گا۔پُرانے بزرگوں نے خرگوش اور کچھوے کی مثال بنائی ہے او اس میں ظاہر کیا ہے کہ خرگوش اپنی دوڑ پر ناز کرتے ہوئے منزل سے پہلے سو گیا اور کچھوا آہستہ آہستہ چلتا گیا اور منزلِ مقصود پر پہنچ گیا جس سے ظاہر ہے کہ جب انسان صحیح راستہ پر چل پڑتا ہے تو خواہ اس کی چال ست ہو ایک نہ ایک دن گوہر مقصود اس کو حاصل ہو ہی جاتا ہے لیکن جو شخص صحیح راستہ اختیار نہیں کرتا یا کچھ دیر چل کر غافل ہو جاتا ہے اس کے متعلق کس طرح توقع ہوسکتی ہے کہ وہ منزلِ مقصود تک پہنچ جائے گا۔ہرانسان نے مرنا ہے گو ہر انسان خیال یہی کرتا ہے کہ اس پر موت نہیں آئے گی۔پیشتر اس کے کہ وہ اٹل گھڑی آ جائے ہمیں اصلاح کی طرف قدم اُٹھانا چاہئے اور اپنے فرائض کو سمجھنا چاہئے اور اُن کی ادائیگی کے لئے پوری طرح کوشاں رہنا چاہئے۔“ 66 الفضل ۸/ اگست ۱۹۳۹ ء ) ا بخارى كتاب المغازى باب وفاة النبي صلى الله عليه وسلم المائده : ۶۸ انساب الاشراف - الجزء التاسع بنو عبدالدار بن قصی (مصعب بن عمیر) صفحه ۴۰۵، ۴۰۶۔دارالفکر بیروت لبنان۔الطبعة الاولى ١٩٩٦ء الفرقان: ۴۵