خطبات محمود (جلد 20) — Page 308
خطبات محمود ۳۰۸ سال ۱۹۳۹ء مصلح موعود کس طرح مان لیں؟ لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اگر علامات پوری ہو گئیں اسلام می میرے ذریعہ ترقی کر گیا، غلام میرے ذریعہ آزاد ہو گئے اور احمدیت میرے ذریعہ پھیل گئی تو مصلح موعود کا جو کام تھا جب میں نے وہ کر دیا تو لوگ خواہ انکار کریں میں بہر حال مصلح موعود ہوں گا کیونکہ ہمیں کام سے غرض ہے نہ کہ نام سے تم کوئی نام رکھویا نہ رکھو مگر حقیقت یہی ہے کہ جس کے ذریعہ تو میں برکت پائیں گی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام کو دُنیا کے اکناف تک پھیلائے گا اور جو غلاموں کو آزاد کرے گا وہی مصلح موعود ہو گا۔چاہے لوگ اُسے مصلح موعود کہیں یا نہ کہیں۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اجتہادی غلطیوں کو پیش کرنا نادانی ہے۔میں کہتا ہوں دس ہزار اجتہادی غلطیاں بھی اگر تم نکال لو تو وہ اس نشان میں حارج نہیں ہوسکتیں کیونکہ اصل چیز نام نہیں بلکہ کام ہے اور اصل چیز احمدیت کی فتح اور اسلام کا غلبہ ہے۔یہی کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا اور یہی کام میرا ہے۔اگر قومیں مجھ سے برکت پا جائیں، غلام آزاد ہو جائیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام دُنیا کے کناروں تک پہنچ جائے تو پھر کسی اور بحث کا کرنا بالکل فضول اور لغو ہو گا۔پس میرے نزدیک تو اس کتاب کی کوئی وقعت ہی نہیں لیکن چونکہ ہماری جماعت کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ لوگوں کو اس کتاب کے پڑھنے سے روکا جائے اس لئے میں کہتا ہوں کہ کیوں روکا جائے؟ میں نے تو عیسائیوں اور آریوں کی کتابیں بھی پڑھی ہیں اور ان سے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے بلکہ حق یہ ہے کہ مجھ پر اسلام کی خوبیاں عیسائیوں اور آریوں کی کتابیں پڑھ کر ہی ثابت ہوئیں۔میں نے جب غیر مذاہب کی کتابوں کو پڑھا اور میں نے اُن کے نقائص اور کمزوریوں کو دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ ان کتابوں کے مصنف کس قدر تقویٰ سے دُور تھے اور کس طرح کی خلاف عقل باتیں وہ لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔اس کے مقابلہ میں جب میں نے قرآن کو دیکھا تو مجھے نظر آیا کہ اس کی ہر بات عقل کے مطابق ہے اور اس نے ہر مقام پر تقویٰ کی اور خشیت الہی پر زور دیا ہے۔پس میرا ایمان اس فرق کو دیکھ کر جو اسلامی اور غیر اسلامی کتابوں کی میں پایا جاتا ہے گزوں نہیں ، قدموں نہیں بلکہ میلوں میل بڑھ گیا اور بڑی تیزی سے بڑھا۔پس وہ شخص جس کے دل میں ایمان ہے اور جو سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کی طاقت رکھتا۔ہے