خطبات محمود (جلد 20) — Page 294
خطبات محمود ۲۹۴ سال ۱۹۳۹ء سُن کر بہت پسند کیا اور کہا کہ آپ کو چاہئے تھا میرے لئے بھی ایک کھانا تیار کراتے۔میں نے کہا تھ مجھے آپ کی عادات کا علم نہ تھا۔انہوں نے کہا کہ میں تو سادگی کو بہت پسند کرتا ہوں۔تو یہ تعلیم اتنی مفید ہے کہ غیروں کو بھی اس کے فوائد نظر آ رہے ہیں اور ہندوؤں ،سکھوں ، عیسائیوں، ایشیائیوں اور غیر ایشیائیوں سب کی توجہ خود بخود اس طرف مبذول ہوتی جا رہی ہے مگر تجربہ سے یہ بھی ثابت ہو رہا ہے کہ لوگ زیادہ کھانے چھوڑنے کے لئے تیار ہیں ، سادہ کپڑے بھی پہن کی سکتے ہیں مگر سینما چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔میری ہمشیرہ شملہ گئیں تو اُنہوں نے سُنایا کہ بعض امراء کی عورتیں اس تحریک کو بہت پسند کرتی ہیں مگر صرف یہ کہتی ہیں کہ سینما چھوڑ نا مشکل ہے۔تو عام طور پر لوگوں میں یہ تحریک شروع ہے۔حتی کہ مختلف کمیٹیوں اور مجلسوں میں یہ سوال آنا شروع ہو گیا ہے لیکن افسوس ہے کہ جماعت نے ابھی اسے سمجھنے اور اس پر پورے طور پر عمل کرنے کی طرف توجہ نہیں کی۔دراصل کامل فرمانبرداری کامل علم سے پیدا ہوتی ہے اس لئے ان جلسوں میں واعظ اچھی طرح لوگوں کو اس کے فوائد سے آگاہ کریں اور کھول کھول کر سمجھا ئیں اور کوشش کریں کہ ہر سال کی تقریروں میں نئے نئے مضامین اور نئے نئے مسائل پیدا ہوں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ پچھلی باتیں بیان نہ کی جائیں اور ان کو نظر انداز کر دیا جائے۔ان باتوں کو چھوڑنا خودکشی کے مترادف ہے۔ان کو بھی ضرور بیان کیا جائے اور ان کے علاوہ نئے مضامین پیدا کئے جائیں۔نئے مضامین سے نئی روح پیدا ہوتی ہے اس لئے دونوں کو مد نظر رکھنا چاہئے۔یعنی نئے مضامین بھی اور پرانے بھی بیان کئے جائیں۔میں اُمید کرتا ہوں کہ تمام جماعتیں خصوصاً قادیان کی جماعت کہ یہ جگہ سلسلہ کا مرکز اور خدا تعالیٰ کے رسول کی تخت گاہ ہے اور اس لحاظ سے ان کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔اپنے فرائض کو پوری طرح محسوس کریں گی۔قادیان والوں کو دوسروں کے لئے نمونہ بننا چاہئے اور خود علم حاصل کرنا اور دوسروں کو سکھانا چاہئے اور پھر اس تحریک پر عمل کرنے میں بھی ایسا نمونہ دکھانا چاہئے کہ باہر والے ان سے سبق حاصل کریں۔نیک نمونہ کا اثر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔آج ہی لاہور سے چلنے کے وقت ایک خاتون مجھ سے ملنے آئیں وہ پنجاب کے ایک سابق لیڈر کی والدہ ہیں۔وہ کہنے لگیں کہ میرا بیٹا ایک دو بار قادیان ہو آیا ہے اور واپس آ کر مجھ سے کہا کہ