خطبات محمود (جلد 20) — Page 276
خطبات محمود ۲۷۶ سال ۱۹۳۹ء معلوم ہوتے ہیں ، نہ گفتگو کا طریق معلوم ہوتا ہے، نہ بڑوں سے ملنے کا سلیقہ آتا ہے، نہ چھوٹوں کی سے سلوک کرنا آتا ہے مگر جب انسان تعلیم حاصل کر لے تو ان تمام باتوں میں وہ ہوشیار ہو جاتا ہے اور گو بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں مگر قلوب پر ان کا نہایت گہرا اثر پڑتا ہے۔جب انسان حاصل کر لے تو تعلیم سے اسے گفتگو اور نشست برخاست کے وہ تمام آداب معلوم ہو جاتے ہیں جو شرفاء میں رائج ہیں۔مرزا مظہر جان جاناں ایک بزرگ گزرے ہیں۔ایک دفعہ ان سے ملنے کے لئے بادشاہ آیا کی اُس کے ساتھ اس کا وزیر بھی تھا۔وزیر کو پیاس جو لگی تو اُس نے صراحی سے جو پاس ہی پڑی کی ہوئی تھی پانی لیا اور پی کر صراحی پر آبخورہ بجائے سیدھا رکھنے کے لا پرواہی سے ذرا ٹیڑھا رکھ دیا۔وہ اتنی نازک طبیعت کے تھے کہ اسے برداشت نہ کر سکے اور بادشاہ کی طرف دیکھ کر کہنے کی لگے اسے کس بے وقوف نے وزیر بنایا ہے؟ اسے تو کوزہ بھی سیدھا رکھنا نہیں آتا۔گویا با دشاہ پر کی بھی چوٹ کر گئے اور وزیر کو بھی انہوں نے ملامت کر دی۔تو اُٹھنے بیٹھنے اور کام کاج کرنے کے طریق طبائع پر بڑا اثر ڈالتے ہیں۔ایک ہی کام ہوتا ہے جسے ایک تو خوب سلیقہ اور ہوشیاری کے ساتھ سرانجام دیتا ہے مگر دوسرا ایسے بھونڈے طریق سے کرتا ہے کہ اس سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔تو آداب اور طریق بات کو کہیں کا کہیں پہنچا دیتے ہیں اور یہ اصول صرف اہم باتوں سے مخصوص نہیں۔چھوٹے چھوٹے کاموں میں بھی جب کوئی شخص عقلمندی سے کام لیتا ہے تو اس کا وہ کام نہایت خوبصورت دکھائی دیتا ہے لیکن جب دوسرا اُسے تہذیب و تمدن کے اصول کے مطابق سرانجام نہیں دیتا تو وہ بدصورت نظر آتا ہے۔مثال کے طور پر چائے کو دیکھ لو انگریز بھی چائے پیتے ہیں اور ہندوستانی بھی مگر انگریزوں میں یہ رواج ہے کہ وہ چائے پیتے وقت ہونٹوں کی کی آواز نہیں نکالتے لیکن ہندوستانی جہاں چائے پی رہے ہوں قریباً سب چائے پیتے وقت یہ آواز نکال رہے ہوں گے۔اس فرق کی وجہ نہایت ہی معمولی ہے اور وہ یہ کہ ہندوستانی چائے پیتے وقت زیادہ گھونٹ لے لیتا ہے مگر انگریز چھوٹے چھوٹے گھونٹ پیتا ہے اور اس طرح آواز پیدا نہیں ہوتی لیکن باوجود اس کے کہ ایک معمولی بات ہے انگریزوں کی مجلس میں کوئی چائے پیتے وقت آواز نکالے تو سب سنکھیوں سے اُسے دیکھنے لگ جاتے ہیں کہ یہ وحشی کہاں سے آ گیا ؟ کی