خطبات محمود (جلد 20) — Page 215
خطبات محمود ۲۱۵ سال ۱۹۳۹ء کیونکہ اصل زبان بھی قائم رہتی ہے اور اگر ترجمہ میں کوئی غلطی ہو تو اصل زبان کو دیکھ کر اس غلطی کو دُور کیا جاسکتا ہے۔پس عربی زبان کا رواج خواہ نماز میں ہو، خواہ تلاوت قرآن میں مذہب کو اس کی اصل صورت میں قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے اور نماز اور قرآن کے ترجمے کا رواج روحانیت کے قیام کے لئے ضروری ہے۔اگر ہم خالی ترجمہ لے لیں تو علم بے شک بڑھتا رہے گا لیکن مذہب گھٹ جائے گا اور اگر خالی لفظ لے لیں تو مذہب بے شک محفوظ رہے گا مگر علم گھٹ جائے گا۔کامل فائدہ تبھی حاصل ہو سکتا ہے جب مذہب بھی محفوظ ہو اور علم بھی قائم ہو اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب لفظ بھی قائم رہیں اور ان کا ترجمہ بھی انسان کو آتا ہو۔جب یہ دونوں چیزیں حاصل ہو جائیں تو مذہب اور اہل مذہب دونوں محفوظ ہو جاتے ہیں اور ان لوگوں کی کا نہ تو وہ قو میں مقابلہ کر سکتی ہیں جو ترجمہ ہی ترجمہ جانتی ہیں اصل الفاظ کو بھلا بیٹھی ہیں اور نہ وہ قو میں مقابلہ کر سکتی ہیں جو اصل الفاظ کو تو رہتی رہتی ہیں مگر معانی اور مفہوم سے بے خبر ہوتی ہیں۔غرض یہ ایک اہم سوال ہے جس کا خیال رکھنا ہمارے لئے ضروری ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے دوست اس کی طرف خاص طور پر توجہ رکھیں گے۔جب وہ یہ قدم اُٹھا لیں گے اور نماز باترجمہ سیکھ جائیں گے تو بہت سے مخلصین کو اللہ تعالیٰ سارا قرآن با ترجمہ پڑھنے کی توفیق دے دے گا کیونکہ انسان جب نیکی کے راستہ میں ایک قدم اُٹھاتا ہے تو ہمیشہ اُسے دوسرا قدم اُٹھانے کی بھی توفیق دی جاتی ہے۔مجھے بتایا گیا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں ہم پڑھ ہی نہیں سکتے۔میں ایسے دوستوں سے کہتا ہوں کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے جو اُن کے دل میں پیدا ہوا ہے بے شک اس قسم کی بات کہنے والے پانچ دس سے زیادہ آدمی نہیں مگر میں کہتا ہوں زندہ قوموں میں ایک آدمی بھی ایسی غلطی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ دوسرا تو اپنے کام کا حرج کر کے پڑھانے آتا ہے مگر پڑھنے والا کہتا ہے کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی سرد ملک کا رہنے والا شخص جیٹھ ہاڑ کے دنوں میں سخت دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا اور پاس ہی مکانات تھے