خطبات محمود (جلد 20) — Page 210
خطبات محمود ۲۱۰ سال ۱۹۳۹ء ملازمت ہوتی ہے تو رخصت لے لیتے ہیں ، بہر حال وہ تفریح طبع کے لئے اوقات نکال لیتے ہیں کی اور یہاں تو روزانہ صرف ایک یا دو گھنٹے وقت صرف کرنا ہے جس میں کوئی مشکل بات نہیں۔کی ہاں ممکن ہے کہ بعض کا ذہن ایسا تیز نہ ہو اور انہیں پندرہ بیس دن اس کام کے لئے کلیہ اپنے آپ کو فارغ کرنا پڑے۔اس صورت میں انہیں پندرہ ہیں دنوں کے لئے اپنے آپ کو کی فارغ بھی کرنا پڑے گا اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی شخص ایسا ہو جو اپنی عمر میں سے پندرہ بیس دن اس کام کے لئے فارغ نہ کر سکے جس میں نہ صرف اس کا اپنا فائدہ ہے بلکہ اسلام اور احمدیت کا بھی فائدہ ہے۔پس سب کو چاہئے کہ اِس کام کو اپنا کام سمجھ کر اور سلسلہ کا کام سمجھ کر کریں اور اگر اس کام کے لئے انہیں اپنے وقت کی قربانی کرنی پڑے تو شوق اور خوشی کے ساتھ یہ قربانی کریں جب ان میں تعلیم آجائے گی تو لازما وہ اپنے بچوں کو زیادہ تعلیم دلائیں گے اور پھر تعلیم کی قدر بھی کی انہیں معلوم ہو جائے گی۔مثلاً نماز باترجمہ ہے۔یہ ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے بغیر عبادت میں کبھی لذت نہیں آسکتی۔میں نے دیکھا ہے یورپ کے لوگ اکثر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اُس نماز کا فائدہ کیا جس میں محض الفاظ رٹے جاتے ہیں اور کہنے والے کو یہ پتہ تک نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ یہ اعتراض ہے تو غلط مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نماز کا پورا فائدہ بغیر ترجمہ کے حاصل نہیں ہو سکتا اور اگر ہم اس سوال کا جواب دیں تو صرف دو طرح ہی دے سکتے ہیں۔یا تو ہم یہ کہیں کہ باوجو دترجمہ نہ جاننے کے نماز سے ہم پورا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور یا یہ کہیں کہ یہ بالکل غلط بات ہے کہ مسلمان نماز کا ترجمہ نہیں جانتے۔مسلمانوں میں سے ہر شخص نماز کا ترجمہ جانتا ہے اور اس وجہ سے وہ نماز سے پورا فائدہ اُٹھاتے ہیں۔انہی دو جوابوں سے ہم دشمن کو خاموش کرا سکتے ہیں مگر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ دونوں جواب بالکل غلط ہیں۔ہم ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ ترجمہ کا کوئی فائدہ نہیں اور بغیر اس کا علم رکھنے کے بھی نماز سے پورا فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے اور ہم یہ جواب بھی قطعا نہیں دے سکتے کہ ہر مسلمان نماز کا ترجمہ جانتا ہے کیونکہ یہ بھی قطعی طور پر غلط ہے۔پس دشمن کے اعتراض سے بچنے کے لئے ہمارے لئے ایک ہی راستہ کھلا ہے اور وہ یہ کہ