خطبات محمود (جلد 20) — Page 2
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء ہمارے تو کل اور ایمان کی بنیاد ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ ہو وہ نامبارک اور نا کام مجلس ہے کے علاوہ ازیں جو شخص ہر وقت اللہ تعالیٰ کی سے ہدایت طلب نہیں کرتا اُس کے ہر وقت گڑھے میں گرنے کا امکان ہے اور ہر وقت یہ خطرہ ہے کہ غلطی نہ کر جائے۔اس میں طبہ نہیں کہ دُعامانگنے والا بھی غلطی کر سکتا ہے اور اس کا قدم بھی غلط رستہ پر اُٹھ سکتا ہے۔مگر ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ امکان کس کے لئے زیادہ ہے۔دُنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ دوائیاں کھانے والے بھی مرتے ہیں مگر کیا اس سے لوگ دوائیوں کا کھانا چھوڑ دیتے ہیں؟ جس طرح کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ دوائی اپنا اثر نہیں کرتی اُسی طرح بعض موقعوں پر دُعا بھی قبول نہیں ہوتی۔لیکن بہر حال جس طرح صحت کی ضمانت اُسے حاصل ہوتی ہے جس نے دوائی کا استعمال کیا اُسی طرح کامیابی کی ضمانت اُسے حاصل ہو سکتی ہے جو دُعا کرتا ہے۔ہم اس کی دُعا کے ساتھ اپنے کاموں کو شروع کرتے ہیں لیکن مولوی ثناء اللہ صاحب ایسا نہیں کرتے۔ان کے نزدیک اس سے وقت ضائع ہوتا ہے۔اب دونوں کے کاموں کے نتائج بھی ظاہر ہیں۔ہم سورۂ فاتحہ پڑھ کر وقت ضائع کر دیتے ہیں اور مولوی صاحب اس وقت کو بچا لیتے ہیں۔اب دیکھنا چاہئے کہ دونوں کے کاموں کے نتائج کیا ہیں ؟ ہم سورہ فاتحہ کی تلاوت کے ساتھ وقت ضائع کر کے بھی کامیاب ہو رہے ہیں اور مولوی صاحب وقت ضائع نہیں کرتے مگر نا کام ہو رہے ہیں۔جس سے ظاہر ہے کہ یہ وقت کا ضیاع ہمیں مہنگا نہیں پڑتا بلکہ مفید ہے۔پس اگر وہ چاہتے ہیں کہ اس فضل الہی کو دیکھنے کے باوجود ہم ان باتوں کو چھوڑ کر اُن کے ساتھ ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم اتنے بے وقوف نہیں ہیں۔اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے اس سال کی جلسہ سالانہ کے موقع پر تحریک کی تھی ہر احمدی یہ ذمہ لے کہ سال بھر میں کم سے کم ایک دو نئے احمدی کی ضرور بنائے گا۔یہ تحریک اس سے پہلے بھی میری طرف سے ہوتی رہی ہے لیکن چونکہ پہلے کبھی اسے معین صورت میں پیش نہیں کیا گیا اس لئے جماعت کے دوستوں نے بھی اس سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور اسے ایک کان سے سُن کر دوسرے سے نکال دیتے رہے ہیں۔خصوصاً قادیان کے لوگوں نے تو اسے لطیفہ سے زیادہ وقعت کبھی نہیں دی۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ