خطبات محمود (جلد 20) — Page 1
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء ہر احمدی نئے احمدی بنانے کا وعدہ کرے فرموده ۶ /جنوری ۱۹۳۹ء) تشہد ،تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- نزلہ اور کھانسی کی تکلیف کی وجہ سے میں خود تو آواز نہیں پہنچا سکتا۔ممکن ہے لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ پہنچ جائے۔مجھے آج "الفضل میں یہ دیکھ کر بہت تعجب بھی ہوا، حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی ہوا مسلمانوں کی حالت پر کہ وہ یہاں تک گر گئی ہے کہ اخبار اہلحدیث “ میں لکھا ہے کہ قادیانیوں کا خلیفہ خطبہ جمعہ میں ہمیشہ سورۂ فاتحہ پڑھ کر لیکچر شروع کر دیتا ہے جس پر بہت زیادہ وقت لگتا ہے۔اہلحدیث کو یا د رکھنا چاہئے کہ سورۂ فاتحہ تو ہماری جماعت کا خاص نشان ہے اللہ تعالیٰ نے پرانی کتب میں یہ ایک پیشگوئی رکھی ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں سات مہر وں والی ایک کتاب کے راز ظاہر کئے جائیں گے جس کا نام فتوحہ ہو گا۔یعنی سات آیتوں کی سورۃ کی حقیقت کھولی جائے گی جس کا نام فاتحہ ہو گا لے پس اس لحاظ سے سورہ فاتحہ کے ساتھ ہمارا خاص تعلق ہے لیکن اگر یہ نہ بھی ہو تو بھی سورہ فاتحہ ایک ایسی دُعا پر مشتمل ہے کہ اس کے بغیر ایک مومن کا کام تو چل سکتا ہی نہیں۔اگر وقت کو بچانا ہو تو پھر تقریر کرنے کی ہی کیا ضرورت ہے خاموشی ہی کی کیوں نہ اختیار کی جائے۔یا پھر اختصار ہی اگر ضروری ہو تو یہ زیادہ مناسب ہوگا کہ تقریر کو چھوٹا کر لیا جائے بجائے اِس کے کہ اس دُعا سے آنکھیں بند کر لی جائیں اور اسے چھوڑ دیا جائے جو ،