خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 196

خطبات محمود ۱۹۶ سال ۱۹۳۹ء مگر اب نوے فیصدی ہیں گویا مردوں کی تعلیم کے لحاظ سے ہم نے ترقی کی ہے لیکن لڑکیوں کی تعلیم کے لحاظ سے تنزل ہے۔پہلے یہاں کوئی ان پڑھ لڑکی نہ تھی مگر اب ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ایک طرف تو ہم لڑکیوں کی تعلیم کی طرف متوجہ ہوں اور دوسری طرف مردوں کی تعلیم کی طرف۔اور کوشش کریں کہ دونوں سو فیصدی تعلیم یافتہ ہو جائیں۔پہلے ہندوستان میں دوسرے لوگوں میں صرف دس پندرہ یا بیس فیصدی لوگ تعلیم یافتہ تھے مگر ہمارے اسی نوے فیصدی تھے اب دوسروں کو تعلیم دینے کی طرف بہت توجہ کی جارہی ہے اور اگر وہ سو فیصدی تعلیم یافتہ ہو جا ئیں اور ہم میں جو کمی تھی وہ بدستور رہے تو یہ کتنے افسوس کی بات ہو گی۔مومن کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو غیرت پیدا کی ہے وہ اس امر کی مقتضی ہے کہ ہم سو فیصدی تعلیم والی تحریک میں پہلے نمبر پر رہیں جس طرح پہلے تھے اور کوشش کریں کہ دوسری قومیں ہم سے آگے نہ بڑھ سکیں لیکن اس تحریک میں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک وہ لوگ ہماری مدد نہ کریں جو ان پڑھ کی ہیں۔اگر وہ خود کوتا ہی کریں تو اِس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا اور میں نے خطبہ میں اس کے لئے اپیل کرنے کی ضرورت اسی لئے سمجھی ہے کہ تا سب دوستوں کو علم ہو جائے کہ ہمیں تعلیم عام کرنے کی نئی جدو جہد میں بھی اپنے پہلے مقام کو قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور چاہئے کہ سارے ہندوستان میں ہم لوگ ہی پہلے ہوں جن میں سو فیصدی تعلیم ہو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری جما جماعت تبلیغی جماعت ہے۔دوسری قوموں میں جب ایک دفعہ سو فیصدی تعلیم ہو جائے گی تو ان میں نئے ان پڑھ داخل نہیں ہوں گے۔آئندہ انہیں صرف بچوں کی تعلیم کا کی انتظام کرنا ہو گا مگر ہمارے اندر ہر وقت نئے لوگ آتے رہیں گے۔وہ اگر ایک دفعہ سو فیصدی تعلیم کر دیں تو ان کے لئے پھر اس میعاد کو قائم رکھنا بہت آسان ہو گا مگر ہمارے اندر دوسری قوموں میں سے جو ان پڑھ آتے رہیں گے اُن کے لئے ہمیشہ فکر رکھنی پڑے گی لیکن یہ چیز ہمارے لئے کسی گھبراہٹ کا موجب نہیں ہونی چاہئے۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کو جو قوت عملیہ حاصل ہے گو ہمیں اس پر تسلی نہیں لیکن وہ دوسروں سے بہت زیادہ ہے اور اُس کی موجودگی میں یہ کوئی ایسا بوجھ نہیں جو ہم اُٹھا نہ سکیں اس کام میں جماعت کے دوسرے تجربہ کارلوگوں سے مدد لی جاسکتی ہے۔گو چونکہ اس کی ابتدا خدام الاحمدیہ نے کی۔