خطبات محمود (جلد 20) — Page 179
خطبات محمود ۱۷۹ سال ۱۹۳۹ء اور کہتے ہیں کہ ہمارا مقابلہ کون کر سکتا ہے؟ ایک جنون کی حالت اُن کے اندر پیدا ہوتی ہے۔اُن کے اندر جب جوانی کے آثار پیدا ہوتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری طاقت ساری دُنیا کو تباہ کر دے گی لیکن جب جوانی کی یہ حالت نہیں رہتی تو ہوش آتا ہے اور وہ پچھتاتے ہیں۔لوگ آپس میں لڑتے ہیں ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں۔کوئی روکتا ہے تو کہتے ہیں کہ نہیں ہمیں چھوڑ دو ہم مریں گے یا مار دیں گے لیکن جب کوئی قتل ہو جاتا ہے اور مقدمات بنتے ہیں تو پھر وکیلوں کی کے آگے ناک رگڑتے ہیں ، جائداد میں فروخت کر کے مقدمات کی پیروی پر لگا دیتے ہیں۔جس وقت کوئی ایسا شخص لڑنے کے لئے جا رہا ہوتا ہے اُس وقت اُس کی دماغی کیفیت اور ہوتی ہے مگر جب پکڑا جاتا ہے اُس وقت اور ہوتی ہے۔لڑائی کے وقت تو وہ کہتا ہے کہ میں کسی کی پروا نہیں کرتا۔وہ کس قدر غصہ کے ساتھ ہر نصیحت کو ٹھکرا دیتا ہے لیکن جب پکڑا جاتا اور حوالات میں بند ہوتا ہے تو پھر بے انتہا منت سماجت کرتا اور پوچھتا ہے کیوں وکیل صاحب میں بچ جاؤں گا ؟ وہ رشتہ داروں کی منتیں اور خوشامد میں کرتا ہے اور اُن سے کہتا ہے کہ جھوٹے گواہ بناؤ اور جس کی طرح بھی ہو سکے مجھے بچاؤ۔دیکھو! ان دونوں کیفیات میں کتنا فرق ہے۔تو جسمانی نشوونما میں بڑھاپے کے وقت جو کیفیت ہوتی ہے وہ روحانی نشو و نما میں جوانی کی حالت میں ہوتی ہے۔روحانی جماعت پر جب جوانی کی حالت ہو اُس وقت اس میں زیادہ انکسار ہوتا ہے اور جب اس میں اضمحلال پیدا ہو اُس وقت اس کے اندر خود پسندی اور خود رائی پیدا ہوتی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جماعت کو دیکھ لو، حضرت عیسی علیہ السلام کی جماعت کو دیکھ لو، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو دیکھ لو، سب کی یہی حالت تھی۔جب وہ اپنے انبیاء کی صحبت میں اپنے اندر وہ قو تیں پیدا کر رہے تھے جن سے وہ دنیا کو کھا جانے والے تھے اُس وقت ان میں غیظ و غضب کے بجائے انکسار اور فروتنی پائی جاتی تھی جو جسمانی نشو و نما کے وقت میں نہیں پائی جاتی۔وہ خدا تعالیٰ سے ڈرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ نہ معلوم انجام کیا ہو نے والا ہے۔انہیں خدا تعالیٰ کے وعدوں پر اعتبار تھا مگر یہ ان میں تکبر اور بڑائی پیدا نہ کرتا ت تھا بلکہ اس کی وجہ سے اُن کی قربانیاں بڑھتی تھیں، اُن کی زبانیں زیادہ دعوے نہیں کرتی تھیں کی اور اُن کے دل نڈر نہیں تھے بلکہ خدا تعالیٰ کے خوف سے بھرے ہوئے تھے اور یہی ثبوت تھا