خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 140

خطبات محمود ۱۴۰ سال ۱۹۳۹ء زیادہ کون رحیم ہے۔مگر وہ بھی ایسے موقع پر سزا دیتا ہے۔ذرا غور تو کروا گر یہ اصول درست ہو اور قیامت کے دن بھی ایسا ہی ہو تو قرآن کریم میں جو کچھ آخرت کے متعلق آیا ہے وہ کس طرح کی مضحکہ انگیز طور پر ایک تماشہ بن جائے مثلاً اگر فرعون کو سزا ملنے لگے اور حضرت موسیٰ کے ساتھی کھڑے ہو کر کہیں کہ حضور اس سے غلطی ہو گئی ہے اب یہ معافی طلب کرتا ہے اسے اب معاف کر دیا جائے تو کیا خدا تعالیٰ اُسے معاف کر دے گا ؟ اور کیا اس قسم کی معافی اُس روحانیت کی تکمیل کا موجب ہوگی جو اللہ تعالیٰ پیدا کرنا چاہتا ہے ؟ یا مثلاً جب ابو جہل کو سزا ملنے لگے تو رقعوں کا ڈھیر خدا تعالیٰ کے سامنے لگ جائے اور پندرہ ہیں محضر نامے پیش ہو جائیں جن پر لوگوں کی طرف سے یہ درخواست ہو کہ اسے معاف کیا جائے تو کیا خدا تعالیٰ اُسے معاف کر دے گا ؟ اگر اس قسم کے رقعے آنے لگیں تو پھر تو خدا تعالیٰ کہے گا جب سب فیصلے تم نے خود ہی کرنے ہیں تو کی میں کس لئے یہاں بیٹھا ہوں؟ اُٹھاؤ دوزخ اور سب کو معاف کرو۔پس اگر خدا تعالیٰ کا کسی کو سزا کی دینا ظلم نہیں اور کسی کا کوئی حق نہیں کہ اُس کے سامنے سفارش کرے تو کیا میں یا تم خدا تعالیٰ سے زیادہ رحم اپنے اندر کھتے ہیں کہ ہم سزا کو ایک بلا اور عذاب تصور کرتے ہیں۔یہ یقیناً دماغ کی کی کمزوری اور ذہانت کی کمی کی علامت ہے اور یہ یقیناً اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم سمجھتے ہی نہیں کہ سزا کیوں مقرر کی گئی ہے؟ سزا ایک بہت بڑے فائدہ کی چیز ہے۔سزا بنی نوع انسان کے لئے ایک رحمت کا خزانہ ہے۔اگر یہ فائدہ کی چیز نہ ہوتی تو ہمارا خدا کبھی ميت يؤيد الدين نہ بنتا۔ہمارا خدا کبھی قہار نہ بنتا، وہ صرف رحیم اور کریم ہی ہوتا۔مگر وہ رحیم اور کریم ہی نہیں بلکہ شَدِيدُ الْعِقَاب اور شَدِيدُ الْبَطْش بھی ہے۔پھر کیا تم سمجھتے ہو کہ صرف میں منصف ہوں یا تم منصف ہو لیکن ہمارا خدا ظالم ہے۔کیونکہ وہ بنی نوع انسان کو سزا بھی دیتا ہے۔اس سے زیادہ بے حیائی کا عقیدہ اور کون سا ہو سکتا ہے اور اس سے زیادہ بے ہودہ بات اور کیا ہوسکتی ہے؟ پس یقیناً مجرم کو سزا دینا ضروری ہے۔یقیناً سزا کے بعد قوم ترقی کرتی ہے اور یقیناً سزا کے بغیر صحیح ذہانت پیدا نہیں ہوتی۔جب کسی کو علم ہو کہ اگر میں نے فلاں کام خراب کیا تو مجھے سزا ملے گی تو وہ اپنے دماغ پر زور ڈال کر ہوش سے کام کرے گا تا کہ اُسے سزا نہ ملے اور جب وہ ہوش سے کام لے گا تو وہ سزا سے بھی بچ جائے گا اور اُس کا ذہن بھی تیز ہو جائے گا۔