خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 13

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء ابتلا ہے جو اس سال ہماری جماعت پر آیا ہے۔خُدا نے بھی ہماری جماعت کا ایک امتحان لیا ہے، خلیفہ نے بھی جماعت کا ایک امتحان لیا ہے، نظام سلسلہ نے بھی جماعت کا ایک امتحان لیا ہے اور ہر فرد نے بھی انفرادی طور پر اپنا اپنا امتحان لیا ہے۔گویا چاروں گوشے جو تکمیل کے لئے ضروری ہیں وہ اس امتحان میں پائے جاتے ہیں۔آخر انسان کے تعلقات کی کیا نوعیت ہے۔اس کے چار ہی قسم کے تعلقات ہوتے ہیں یا اس کا اپنے نفس کے ساتھ تعلق ہوتا ہے یا دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلق ہوتا ہے یا روحانی یا جسمانی حاکم سے اس کا تعلق ہوتا ہے اور یا پھر خدا تعالیٰ سے تعلق ہوتا ہے۔اس سال یہ چاروں ہی ابتلا آ گئے۔جماعتی امتحان بھی جاری ہے، خلیفہ کا امتحان بھی جاری ہے ، خود اپنے نفس کے امتحان کے لئے بھی جماعت کے ہر فرد نے اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے۔صرف اللہ تعالیٰ کا ایک امتحان رہتا تھا سو یہ تینوں ا بتلا دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے کہا آؤ ہم بھی اُن کے سامنے ایک امتحانی پر چہ رکھ دیتے ہیں۔پس اس نے بھی جماعت کا ایک امتحان لیا اور اس طرح ہمارے امتحان کے چار پرچے ہو گئے۔اب وہ شخص جو ان چاروں پر چوں میں پاس ہو جائے اُس سے زیادہ خوش نصیب اور کون شخص ہوسکتا ہے؟ پس آج ہماری جماعت میں سے ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ جماعتی امتحان میں بھی کامیاب ہو، خلیفہ کے امتحان میں بھی کامیاب ہو، نفس کے محاسبہ کے امتحان میں بھی کامیاب ہو اور خُدا تعالیٰ کے امتحان میں بھی کامیاب ہو۔بے شک یہ امتحان سخت ہے۔ایک نہیں چار امتحان ہیں لیکن پھر ان چاروں امتحانوں کے بعد کوئی قسم امتحان کی باقی نہیں رہ جاتی۔الہی امتحان بھی اس سال ہو رہا ہے، ملتی امتحان بھی اس سال ہو رہا ہے، ذاتی امتحان بھی اس سال ہو رہا ہے اور خلیفہ کی طرف سے بھی امتحان اس سال ہو رہا ہے۔پس جیسا کہ میں نے بتایا تھا یہ دو سال مالی لحاظ سے بہت سخت ہیں اور آثار بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور بھی زیادہ سخت کر دیا ہے مگر خُدا تعالیٰ کے امتحان کی شمولیت بڑی برکتیں رکھتی ہے۔دُنیا میں بھی کی بعض لوگ جب کسی امتحان میں شامل ہو جائیں تو بعد میں اُن کی ترقی کے بڑے بڑے سامان پیدا ہو جاتے ہیں اور کئی خرابیاں برکتوں کا موجب بن جاتی ہیں۔جب جنگِ عظیم ہوئی ہے