خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 84

وجود سے ملنے کا نام ہے جس سے ملنے سے راحت ہو اور اس سے جدائی غم ہے ماتم ہے۔اب کون ہے وہ وجود جس سے ملنے سے فائدہ ہوتا ہے۔اپنے اپنے حال پر غور کرو۔بیوی سے ملنا مفید ہے، بچے سے ملنا خوشی کا باعث ہے، بیوی کا خاوند سے ملنا اس کے لئے مفید ہے دوست کا دوست سے ملنا مفید ہے ، محلہ دار کا محلہ دار سے ملنا خوشی ہے ، گورنمنٹ ہمارے لئے مفید ہوتی ہے۔یہ سب چیزیں اپنی اپنی جگہ مفید ہیں مگر یہ ہر جگہ اور ہر وقت مفید نہیں نہ یہ ہر وقت ہمارے کام آسکتی ہیں۔یہ ایک ایک ضرورت کو پورا کرتی ہیں مگر سب ضرورتوں کو پورا نہیں کرتیں۔پانی اعلیٰ درجہ کی چیز ہے مگر جب پیاس نہیں تو کسی کام کا نہیں۔کھانا مفید ہے لیکن اگر کھانے کے لئے دینے کی بجائے ایسا ہو کہ اس شخص کے سر پر اُٹھوا دیا جائے یا اس کی کمر کے ساتھ بندھوا دیا جائے تو کھانا اس کو کہاں مفید ہو سکتا ہے۔یہ سچ ہے کہ گورنمنٹ امن قائم کرتی ہے لیکن گورنمنٹ کی موجودگی میں لوگ قتل ہوتے ، ڈا کے پڑتے اور تو اور گورنمنٹ کو لوگ الٹ دیتے ہیں۔پس معلوم ہوا کہ یہ بھی ہر حال میں کام آنے والی نہیں۔بیوی بچے مفید ہیں، راحت کا باعث ہیں لیکن بیسیوں موقعے بادشاہوں پر آئے ہیں کہ جب بادشاہ بھاگے ہیں اور انہوں نے دیکھا کہ نیم جو سر پر ہے وہ ان کے ننگ و ناموس کو خاک میں ملا دے گا تو انہوں نے اپنی بیوی اور لڑکیوں کو ہاتھ سے قتل کر دیا۔یا امراء نے کر دیا۔یا عورتوں کو جل کر مر جانے کی تاکید کر دی۔۲۔پس یہ بھی ہر حال میں موجب راحت نہیں۔ہر حال میں راحت کے لئے ایک ہی ہستی ہے اور وہ خدا کی ذات ہے جو ہر وقت اور ہر حال میں ہمارے کام آتا ہے اور ہمارے لئے ہر ایک راحت کو مہیا کرتا ہے اور کوئی موقع نہیں جو ہم پچھتائیں کہ ہم نے کیوں اس سے تعلق کیا۔ایک انسان شادی کرنے اور اولاد ہونے پر افسوس کرتا ہے جب وہ ان کے لئے خوراک مہیا نہیں کر سکتا۔وہ اُس وقت کہتا ہے کہ اے کاش! میں نے شادی نہ کی ہوتی اور یہ اولاد پیدا نہ ہوتی تا مجھے یہ دن تو نہ دیکھنا پڑتا کہ یہ بھوکے میری آنکھوں کے سامنے تڑپ رہے ہیں۔وہ شخص جو دشمنوں کے نرغہ میں آتا ہے اس وقت افسوس کرتا ہے کہ میری بیوی اور یہ لڑکیاں کیوں موجود ہیں۔مگر یہ موقع خدا سے تعلق کرنے میں نہیں آتا۔دنیا کا کوئی رشتہ نہیں جس میں انسان ہر وقت خوشی محسوس کرے۔ایسا با رہا ہوتا ہے کہ باپ بچے کے ہونے پر افسوس کرتا ہے اور بچہ باپ کے اور بیوی خاوند کے اور خاوند بیوی کے دوست دوست پر افسوس کرتا ہے۔اور اس بات پر افسوس کیا جاتا ہے کہ ہم فلاں شہر