خطبات محمود (جلد 1) — Page 83
۸۳ کرے گا یا کوئی شخص قید میں پڑا ہو، یا کسی کے ہاں خونریزی ہوئی ہو ، یا کسی کے ہاں چوری ہوئی ہو ، ڈاکہ پڑا ہو وہ عید سے خوشی محسوس کر سکتا ہے۔کسی کی گھر میں لاش ہو یا کسی کی بیوی پاگل خانہ میں ہو وہ عید سے خوش ہو سکتا ہے؟ کیا اس کا دل خوش ہو گا کہ آج عید ہے اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ عید عید کہنے سے عید نہیں ہوتی بلکہ عید اسی وقت ہوتی ہے جب عید ہو۔یعنی جب تک عید کی شرائط پوری نہ ہوں اس وقت تک عید عید نہیں بن سکتی۔یہ سبق ہے جس کی طرف میں نے پہلے بھی توجہ دلائی ہے اور آج پھر وہی بات دہراتا ہوں۔میں اس بات کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں مگر آپ میں بہت ہیں جنہوں نے ادھر توجہ نہیں کی اس لئے میں اس کی طرف توجہ دلاؤں گا اور اس وقت تک جب تک کہ ایک بھی شخص ایسا ہے جس نے توجہ نہیں کی توجہ دلاتا رہوں گا۔گو میں آپ لوگوں کے احساسات کا خیال کر کے طرز بیان اور امثلہ بدل دوں۔عید کیا ہے۔سو عید کے لفظ میں ہی یہ بات بتادی گئی ہے۔کوئی عید نہیں جس میں لوگ جمع نہ ہوں۔سب مذاہب کی عیدوں میں یہی بات پائی جاتی ہے۔اس فطری قانون نے توجہ دلائی کہ سچی خوشی یہ ہے کہ وصال ہو۔تم دنیا کے کسی گوشہ میں چلے جاؤ عید کے مفہوم میں اختلاف نہیں پاؤ گے۔اور غم کس کو کہتے ہیں اس کو کہ جدائی ہو۔مل جانے کا نام عید ہے۔جتنا بڑا ملاپ ہو گا اتنی ہی بڑی عید ہو گی۔لوگ نماز کے لئے جمع ہوتے ہیں یہ بھی ایک عید ہے مگر محلہ کے لوگوں کی۔لوگ جمعہ کے دن جمع ہوتے ہیں یہ شہر کے لوگوں کی عید ہے۔اور عید میں علاقہ کے لوگ جمع ہوتے ہیں یہ ان کی عید ہے۔اور حج میں تمام دنیا کے مسلمانوں کی عید ہے کہ اس میں تمام جہان کے مسلمان جمع ہوتے ہیں اور یہ بڑی عید ہے۔بتاؤ کہ جب تک حقیقی اجتماع نہ ہو عید کیسے ہو سکتی ہے۔اب سوال ہو تا ہے کہ کن سے ملیں۔اس کو عید ہی کے لفظ سے حل کریں گے اور عید ہی سے پوچھیں گے کہ کن سے ملنا چاہئے۔تو جب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ملنا ان سے چاہئے جن سے خوشی ہو اور انہی سے ملنے کا نام عید ہے کیونکہ لوگ لڑائیوں میں ملتے ہیں جتنے جرمنی و فرانس کے میدانوں میں لوگ ملے۔اتنے پہلے کہاں ملے ہوں گے مگر ان کا ملنا عید نہ تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ ملنا وہ عید ہے جو ہمارے لئے مفید ہو۔پس دنیا کے دستور نے بتا دیا کہ عید وہ ہے جس میں ملاپ ہو اور ملاپ بھی وہ جو مفید ہو۔گویا عید اس