خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 75

۷۵ ہے دیکھو قرآن کی ابتداء الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ 9 سے کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جو سب جہان کا رب ہے ہمارا اس کے ساتھ تعلق ہے۔اگر کوئی غم ہے تو اس کے لئے۔اگر کوئی راحت ہے تو اس کے لئے اس لئے ہمارے لئے عید ہی عید ہے حتی کہ اگر کوئی مرتا بھی ہے تو ہم ناخوش نہیں اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف گیا اور ہمیں بھی خدا ہی کے پاس جانا ہے اور اس میں بھی ہمارے لئے عید ہے۔ہم نے حضرت صاحب کی زندگی کو دیکھا ہے۔نبی کریم م ل ل ا ل لیلی کی زندگی کو پڑھا ہے اور ان اولیائے امت کے حالات بھی پڑھے ہیں وہ مشکل سے مشکل اور آفت سے آفت میں یقین رکھتے ہیں کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔اے رسول کریم ملی والی ریلی کا ایک واقعہ تاریخوں میں مذکور ہے۔ایک دفعہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگل میں سوئے ہوئے تھے آپ کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی کہ ایک بدوی آیا اور اس نے تلوار درخت سے اتار کر بے نیام کر لی اور آپ کے سر پر کھڑا ہو کر کہنے لگا۔تلوار تیرے قبضہ میں نہیں ساتھی تیرے پاس نہیں بتا تجھ کو اب کون بچا سکتا؟ رسول کریم میں لیا لیلی نے نہایت اطمینان سے فرمایا مجھ کو اللہ بچا سکتا ہے۔اس شخص کی نظر ظاہر پر تھی مگر محمد رسول اللہ میں اللہ کی نظر باطن پر تھی اس لئے پ کو کوئی خوف و خطر نہ تھا۔آپ نے سادگی اور اطمینان سے کہہ دیا مجھے خدا بچا سکتا ہے۔شخص پر اس بات کا اتنا اثر ہوا کہ وہ کانپ گیا تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔اس وقت آپ نے تلوار اٹھالی اور کہا اب تو بتا تجھ کو کون بچا سکتا ہے ؟ اس کو رسول کریم میں میر کا جواب سن کر بھی اس کی نقل کرنے کی جرأت نہ ہوئی کیونکہ اس میں وہ بصیرت کہاں تھی اس لئے اس نے کہا کہ آپ ہی رحم کریں۔لا اور مجھے چھوڑ دیں پس چونکہ رسول کریم ملی کا خدا تعالیٰ سے تعلق تھا اس لئے شمشیر برہنہ بھی آپ کے قلبی آرام اور اطمینان پر کوئی اثر نہ۔، ڈال سکی۔اسی طرح حضرت صاحب کا واقعہ ہے جن دنوں گورداسپور میں آپ پر کرم دین والا مقدمہ تھا۔جس عدالت میں مقدمہ دائر تھا اس کا مجسٹریٹ آریہ تھا۔اس کی خود بھی خواہش تھی کہ حضرت صاحب کو سزا دے اور آریوں نے اس پر بہت زور ڈالا کہ کچھ نہ کچھ ضرور سزا ہونی چاہیئے اور انہوں نے اس پر یہاں تک زور ڈالا کہ یہ قومی سوال ہے اب یہ بیچ کر نہ جائے اور اس مجسٹریٹ نے بھی اقرار کر لیا تھا کہ میں تھوڑی سی سزا ضرور دے دوں گا تاکہ اپیل بھی }