خطبات محمود (جلد 1) — Page 76
24 نہ ہو سکے۔مگر بعض شرفاء بھی ہوتے ہیں۔ایک ہندو نے ہی ہمارے ایک شخص کو اطلاع دے دی کہ میں محض خیر خواہی کی راہ سے کہتا ہوں۔جب اس احمدی کو معلوم ہوا تو وہ نہایت گھبرایا ہوا حضرت صاحب کو اطلاع دینے کے لئے آیا اور وہ خود بھی خیال کرتا تھا کہ حضرت صاحب پر اس کا بہت اثر ہو گا۔مگر جب آپ کو اطلاع دی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے، بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور کہا کہ کیا وہ خدا کے شیر پر ہاتھ ڈالنا چاہتا ہے۔ڈال کر دیکھ لے کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ا پس در اصل عید ان ہی کی عید ہوتی ہے اور یہ وہ عید نہیں جو سال میں ایک یا دو دفعہ آتی ہے بلکہ ہر گھڑی عید ہوتی ہے اور ہر ساعت کی ہوتی ہے۔آج کل مسلمانوں کی کیا حالت ہے اور مسلمانوں کو کتنا صدمہ ہے۔اگر اس کا کوئی اندازہ کرے تو جان نکل جائے اور عظمند مجنون ہو جائے۔جس وقت اس کا علاج ہو سکتا تھا اس وقت حضرت صاحب نے پکار پکار کر کہا کہ یہ وقت نہایت نازک ہے اس وقت ہوش میں آؤ۔هر طرف کفر است جوشاں ہمچو افواج یزید دین حق بیمار و بیکس بیچو زین العابدین چاروں طرف کفر و ضلالت پھیلا ہوا ہے اور اسلام کی حالت دم بہ دم نازک ہو رہی ہے مگر اس وقت لوگوں نے اس آواز پر کان نہ دھرا بلکہ اس آواز پر ہسنی اڑائی اور کہا کہ اسلام تو ترقی کر رہا ہے۔اب واقعات نے بتلا دیا ہے کہ اس درد مند نے جو کچھ کہا وہی سچ تھا۔اس وقت جاہلوں میں مشہور تھا کہ ترکوں کا بادشاہ جب باہر نکلتا ہے تو تمام دنیا کے سفیر جو قسطنطنیہ میں ہوتے ہیں بطور باڈی گارڈ کے اس کے ساتھ ہوتے ہیں اور اگر وہ تلوار اٹھائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی لیکن ان نادانوں کو کیا خبر تھی کہ وہ تو چاروں طرف سے شکنجہ میں کسا ہوا ہے اور ساعت به ساعت وہ شکنجہ تنگ ہو تا جا رہا ہے۔اُس وقت کسی نے خطرہ کی پرواہ نہ کی جس سے ڈرایا جا رہا تھا اور اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ وہ لوگ جن کے دلوں میں اسلام کی محبت ہے وہ عجیب عجیب حرکتیں کرتے ہیں حالانکہ ان کو صرف نام کا تعلق ہے۔واقع میں اسلام کا اس وقت کا صدمہ بہت ہی بڑا ہے۔ہم بھی اس سے پاگل ہو جاتے مگر چونکہ ہمیں اللہ تعالٰی پر کامل ایمان ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایک ہستی ہے جو اسلام کی محافظ و نگران ہے۔ورنہ اگر ہمارا خدا تعالیٰ کے قادر ہونے پر ایمان نہ ہوتا اور اس کے بچے