خطبات محمود (جلد 1) — Page 6
(1) فرموده ۲۵۔ستمبر ۱۹۱۱ء بمقام قادیان) اَعُوْذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيْمِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ إِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ قَالَ اتَّقُوا اللهَ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ - قَالُوا نُرِيدُ اَنْ نَّاكُل مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ الشَّهِدِينَ - قَالَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اللهُم رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِاَوَّلِنَا وَاخِرِنَا وَأيَةً مِنْكَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرُّزِقِينَ - قَالَ اللهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ يَكْفُرُ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإنّي أُعَذِّبُهُ عَذَا بَا لَّا أَعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَلَمِيْنَ۔انسان اپنے نفس کی خوشی کے لئے بہت سی مختلف خواہشات اپنے اندر رکھتا ہے۔وہ چاہتا ہے اُسے آرام ملے ، سکون حاصل ہو، عزت ہو ، خوشی ہو، راحت ہو، فرحت ہو ان خواہشات کو پورا کرنے کے واسطے وہ مختلف طرز کی کوششیں کرتا ہے اور ہر قسم کے سامان مہیا کرتا ہے۔دانا لوگوں نے جب فطرتِ انسانی کا مطالعہ کیا اور دیکھا کہ ان خواہشات کا پورا کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے تو انہوں نے ایسی تدابیر سوچیں جن سے یہ فطری تقاضا بھی پورا ہو اور کوئی مفید مطلب نتیجہ بھی نکل آئے۔اس کوشش کی سب سے چھوٹی سی مثال گڑیوں کے کھیل میں پائی جاتی ہے۔جب دیکھا گیا کہ لڑکیوں میں قدر تا کھیل کی طرف میلان ہے۔تو ان کے واسطے ایک ایسا کھیل ایجاد کیا گیا جو نہ صرف تفریح کا کام دے اور قومی کی نشوو نما میں مدد دے بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کا موجب ہو جائے۔گڑیوں کا کھیل ایسا ہے کہ اس میں لڑکیاں سینا، پرونا کھانا پکانا اور آئندہ زندگی کے تمام ضروری حالات سے واقف ہو جاتی ہیں۔کبھی گریا کا پاجامہ رسیا جا رہا ہے، کبھی اس کا کرتہ بنا جا رہا ہے، پھر گڑیا کا بیاہ ہوتا ہے۔اس طرح کھیل میں ہی ان کا تمام چال چلن سنوارا جاتا ہے۔ان کے خیالات میں ترقی ہوتی ہے۔ان کے نشو و نما میں مدد ملتی ہے۔یہ تو انسانی تدابیر کا نتیجہ ہے۔مگر انسان کیا اور اس کے ذہنی قوی کیا۔جب اللہ +