خطبات محمود (جلد 1) — Page 5
عید یہ ہے کہ خدا سے تعلق ہو جائے اور بندے کی اس سے صلح ہو جائے یہ عید جب آتی ہے تو جاتی نہیں اور اس عید کے دن کی شام نہیں اس کو کوئی زمانہ ہٹا اور ختم نہیں کر سکتا۔وہ دن ایسا ہے کہ اس کی عید ختم نہیں ہوتی۔وہ عید نہ اس دنیا میں ختم ہوتی ہے نہ قبر میں ختم ہوتی ہے۔نہ اگلے جہان میں وہ ختم ہوتی ہے۔بلکہ اس عید کا دن یہاں چڑھنا شروع ہوتا ہے اور اگلے جہان میں عروج پر ہوتا ہے۔" (خطبہ عید الفطر فرموده ۸ - جون ۱۹۲۱ء) "شاید بعض لوگ میرے خطبات عید من کر کہیں کہ یہ ہمیشہ رنج کی خبریں سناتا ہے۔لیکن یاد رہے کہ خدا نے میری طبیعت ایسی نہیں بنائی کہ خوشی کی بات کو رنج کی بات بتاؤں۔عظمند انسان ہر ایک بات کو سمجھتا اور اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور جس سے عبرت حاصل ہوتی ہے اس سے عبرت حاصل کرتا ہے۔پس میں اگر خطبات عید میں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ کچی عید کیا ہے تو اس سے یہ مطلب نہیں کہ خوشی کو رنج سمجھتا ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ جس واقعہ سے عبرت حاصل ہو سکتی ہو اس سے عبرت حاصل کریں اور اس کو یونہی نہ جانے دیں۔آج میں پھر اسی بات کو دہراتا ہوں جس بات کو قریباً ہر عید کے خطبہ میں دُہراتا ہوں۔گو الفاظ اور امثلہ اور طرز بیان میں تبدیلی آگئی ہو۔(خطبہ عید الفطر فرموده ۸ - جون ۱۹۲۱ء)