خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 496

۴۹۶ کرتی تھی کہ مسلمانوں پر حملہ کرو حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اس کا خاوند ابو سفیان لہ اور اس کا بیٹا یزید لا حضرت ابو عبیدہ للہ کی امارت میں ایک لڑائی میں شامل ہوئے۔رومیوں کے ساتھ بڑی سخت لڑائی ہوئی اور ایک وقت ایسا آیا جب مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔مسلمانوں نے اپنی سواریوں کو روکنے کی بڑی کوشش کی مگر وہ نہ رکیں آخر وہ پیچھے کی طرف دوڑ پڑے۔جب سپاہی پیچھے کی طرف آ رہے تھے تو ہندہ نے مسلمان عورتوں سے کہا کہ آج مردوں کے قدم اکھڑ گئے ہیں اب وقت ہے کہ عورتیں اپنی بہادری دکھائیں انہوں نے کہا ہم کس طرح مقابلہ کریں ہمارے پاس تو کوئی ہتھیار نہیں اس نے کہا خیموں کی طنابیں کاٹ دو اور ان کے بانس نکال لو اور بھاگتی ہوئی سواریوں کے مونہوں پر بانس مار کر انہیں پیچھے کی طرف موڑو۔چنانچہ اس نے خود ایک طناب کاٹ دی اور بانس لے کر عورتوں کے آگے آگے مسلمانوں کے لشکر کی طرف بڑھی۔ابو سفیان اور اس کا بیٹا یزید بھی بھاگے ہوئے آ رہے تھے اس نے ان کی سواریوں کے مونہوں پر بانس مار کر کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ ایک لمبے عرصہ تک تو تم لوگوں نے اسلام کے خلاف لڑائیاں کیں اب اسلام کی خاطر لڑائی کرنے کا موقع آیا ہے تو تم دشمن کے مقابلہ کی تاب نہ لاکر پیچھے کی طرف بھاگ پڑے ہو۔ابو سفیان نے یزید سے کہا بیٹا واپس چلو دشمن کے تیروں سے زیادہ سخت ان عورتوں کے ڈنڈے ہیں۔سلا، چنانچہ اسلامی لشکر واپس ہوا اور اس نے دشمن کے لشکر پر فتح پائی۔تو دیکھو اسلام لانے کے بعد ان لوگوں میں خدا تعالیٰ نے کیسا تغیر پیدا کر دیا کہ وہی ہندہ جو مسلمانوں کے خلاف مشرکین کو ابھارا کرتی تھی اور اسلام کی شدید دشمن تھی اسلام کی خاطر لوگوں کو ابھارنے لگی اور اس نے اپنے خاوند اور اپنے بیٹے کی سواریوں کے مونہوں پر ڈنڈے مار کر انہیں واپس لوٹا دیا۔تو میں رویا میں اس مجمع کو جو میں وہاں دیکھتا ہوں کہتا ہوں کہ اپنے ہاتھوں میں اسلام کے سیاہ جھنڈے لے کر باہر نکل جاؤ۔اور جس طرح پہلے زمانہ میں مسلمانوں نے اسلام کے جھنڈے دنیا کے ہر کونہ میں ہرا دیئے تھے اسی طرح تم بھی اسلام کے جھنڈے دنیا کے تمام کونوں میں لہرا دو گویا یہ رویا میری پہلی رؤیا کی ایک تشریح ہے۔یہ کام ہے جو تمہارے سپرد کیا گیا ہے۔تم اس کام کو جلد سے جلد پورا کرو۔اور اسلام کو دنیا کے کونہ کونہ میں پھیلا دو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وقف جدید کی تحریک کا پر ابھی بہت کم