خطبات محمود (جلد 1) — Page 481
MAI کرتے تھے۔میں ان کا شاگرد تھا اور مجھے ان کے مکان پر بھی جانا پڑتا تھا۔میں نے دیکھا کہ دودھ دینے والا روزانہ ان کے پاس آیا کرتا تھا مگر مہینہ کے بعد جب انہوں نے دودھ کا حساب کیا تو معلوم ہوا کہ روپیہ کا پندرہ سیر دودھ مل رہا ہے مگر اب سات آٹھ آنے سیر دودھ ملتا ہے۔اس وقت اگر انہیں پندرہ ہیں روپے بھی ملتے ہوں تو خواہ بی۔اے ہونے کی وجہ سے یہ بھی ایک قربانی ہوگی مگر پھر بھی اُس زمانہ کے لحاظ سے ان کا گزارہ اچھا ہو جاتا تھا۔مجھے یاد ہے ابتدائی زمانہ خلافت میں میں اپنے گھروں میں پانچ روپیہ فی کس خرچ دیا کرتا تھا۔اب میں اپنی بیویوں کو کہا کرتا ہوں کہ اُس زمانہ میں جو میری بیویاں تھیں وہ کتنی صابر تھیں کہ اتنی قلیل رقم میں وہ گزارہ کر لیا کرتی تھیں۔اس پر وہ کہا کرتی ہیں کہ پہلے زمانہ کے بھاؤ کا آپ موجودہ بھاؤ سے مقابلہ کریں اور پھر دیکھیں کہ ہم کتنا خرچ کرتی ہیں۔غرض عید الفطر ہمیں بتاتی ہے کہ اگر مسلمانوں نے ترقی کرنی ہے تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنی دولت بجائے اپنے اوپر خرچ کرنے کے قوم اور ملک پر خرچ کیا کریں۔جب فلسطین کا جھگڑا اٹھا ہے تو اُس وقت میری صحت اچھی تھی اور میں خوب کام کر سکتا تھا میں نے مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ منہ سے فلسطین فلسطین کہنا اور عملی طور پر ان کی کوئی مدد نہ کرنا ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں " سو گز واروں گز بھر نہ پھاڑوں۔" کہتے ہیں کوئی عورت تھی وہ بڑی جتاتی تھی کہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے لئے تیار ہوں مگر گز بھر کپڑا بھی دینے کیلئے تیار نہیں ہوتی تھی۔اسی طرح میں نے کہا تم بھی فلسطین فلسطین کے نعرے لگاتے ہو مگر تمہیں اتنی توفیق نہیں ملتی کہ تم عملی رنگ میں بھی کوئی کر سکو حالانکہ رسول کریم ملی وی کے مزار کے قریب دشمن آچکا ہے۔اگر اور کچھ نہیں تو تم اپنی جائدادوں کا پانچ فی صدی ہی اس کام کے لئے وقف کر دو لا مگر انہوں نے کوئی توجہ نہ کی حالانکہ اگر و وہ اپنی جائدادوں کا صرف پانچ فی صدی ہی وقف کر دیتے تو کئی ارب روپیہ مصر اور شام کو دیا جا سکتا تھا اور دوسرے ممالک سے انہیں مد مانگنے کی ضرورت نہیں رہتی تھی۔پاکستان میں اس وقت کئی کروڑ کی آبادی ہے اور اگر مسلمانوں کی جائیدادوں کا حساب لگایا جائے تو میرے نزدیک ساٹھ ستر ارب سے کم کی نہیں ہوں گی۔پس پانچ فیصدی کے لحاظ سے تین ارب روپیہ یا ایک ارب ڈالر بن جاتا ہے اور اگر ایک ارب ڈالر مصر اور شام کو دے دیا جاتا تو وہ اس سے اپنی طاقت میں بہت کچھ اضافہ کر لیتے مگر اُس وقت انہوں نے میری بات کو نہ سنا اور عربوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہم صرف " سو گز واروں " کہنا جانتے ہیں مگر عملی رنگ میں کوئی کام