خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 47

کو لے کر آیا ہے اور اسلام کی حالت اس وقت ایک ایسے دودھ پیتے بچہ کی مانند ہے جو جنگل میں پڑا ہو اور اس پر چاروں طرف سے درندے حملہ آور ہوں۔آج حقیقی مسلم کے لئے خوشی کا دن نہیں۔نادان بے شک خوش ہو سکتا ہے مگر وہ جو جانتا ہے کہ اسلام کی کیا حالت ہے وہ کبھی خوش نہیں ہو سکتا۔اُس کی خوشی اسی میں ہے کہ اس کا سب کچھ اس راہ میں نثار ہو جائے۔پس جس نے اپنی جان و مال کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کیا اُس کو خوش نہیں ہونا چاہئے۔کیا اگر کسی کا بچہ بستر مرگ پر پڑا ہو اور وہ اس کے علاج میں کچھ نہ خرچ کرے تو اسے خوشی حاصل ہو سکے گی۔یا کسی کی بیوی تکلیف میں ہو اور وہ اسے اسی حالت میں چھوڑ کر خوش ہو گا؟ ہرگز نہیں۔پھر اُس مسلمان کیلئے کیا خوشی کا موقع ہے جو اسلام کو مصیبت میں مبتلا دیکھتا ہے۔ہاں جب ایک انسان اپنا تمام زور لگا چکے پھر اُس کو خوش ہونا چاہئے کہ میں نے تو اپنی طرف سے جس قدر کر سکتا تھا کر دیا اور اپنی طرف سے کچھ بخل نہیں کیا۔پس جب تک اسلام کو پوری طاقت اور قوت حاصل نہیں ہوتی ہمارے لئے بھی کوئی پوری خوشی نہیں۔ہمیں حقیقی خوشی اُسی وقت حاصل ہو گی جب اسلام اکناف عالم میں پھیل جائے گا اور جب ہم خدا کے فضلوں کے وارث ہو جائیں گے۔اس سے پہلے ہمارے لئے غم ہے کیونکہ ہماری سب سے بڑھ کر اور سب سے اعلیٰ چیز اسلام خطرہ میں ہے۔پس تم لوگ آج ہی عہد کر لو کہ تم پر جب اگلی عید آئے تو تم میں ایک تبدیلی پائے۔بلکہ تم ابھی سے اپنے اندر تبدیلی کرنی شروع کر دو۔یہ زمانہ نہایت پُر آشوب ہے۔تیرہ سو سال میں اسلام پر ایسا وقت نہیں آیا جو اب آیا ہے۔اس لئے خدا نے مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے والوں کے لئے وہی انعامات رکھتے ہیں جو آنحضرت م م یتیم کے ماننے والوں کے لئے تھے۔کہ اگر ہم اس وقت کو کھو دیں گے تو اس کے بعد ہمیں کوئی وقت ایسا میسر نہیں آئے گا۔پس کوشش کرد که تمام جهان پر اسلام کی صداقت ظاہر ہو جائے اور تمام اس کے حلقہ بگوش ہو جائیں۔پھر جتنا بھی کسی نے بڑے سے بڑا انعام حاصل کیا ہے وہ ہمیں حاصل ہو جائے گا اور اس کے دروازے ہمارے لئے کھل جائیں گے اور ہمارے لئے وہی عید کا زمانہ ہو گا جس وقت کہ ان انعامات کو حاصل کریں گے اور خدا کے دین کو تمام دنیا تک پہنچا دیں گے۔یہ وہ دن ہیں جو پھر نہیں آئیں گے اس لئے ان کی قدر کرو اور ان کو ضائع نہ کرو۔اگر ایسا کرو گے تو تمہیں وہی انعامات حاصل ہوں گے جو تمام انبیاء کی معرفت ان کے پیروؤں کو حاصل ہوئے۔