خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 445

اله ۴۴۴۵ کہنے کے لئے تیار ہو کہ میں جنت میں نہیں جاتا تو ایک حد تک اس کا یہ حق ہو گا کہ وہ انہیں تحفہ کہہ سکے گو غالب والی بات پھر بھی آجائے گی کہ جان دی دی ہوئی اسی کی تھی! حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔وہ جان جو ہم نے خدا تعالیٰ کے حضور پیش کی وہ کیا تھی؟ خدا تعالیٰ کی ہی دی ہوئی تھی پھر اس کی دی ہوئی چیز کو واپس کر کے ہم نے کونسا احسان کیا ہے۔مگر جہاں تک سودا کا سوال ہے اور جہاں تک قرآن کریم کی آیت بتاتی ہے یہ صاف بات ہے کہ ہمارے جان و مال کے بدلہ میں ہم نے جنت لے لی تو پھر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے جان و مال تحفہ میں دیئے ہیں۔وہ تو بطور قیمت دیئے گئے ہیں اور جو چیز بطور قیمت دی جائے وہ تحفہ نہیں کہلا سکتی۔در حقیقت تحفہ وہی ہے جو اس عورت نے پیش کیا اس کے اندر جو عشق الہی کی گرمی تھی اور جو آنسو اس نے بہائے تھے وہی اصل تحفہ تھا کیونکہ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کی جانے والی چیز وہی محبت ہے جو انسان کی خدا تعالی کے عشق میں گداز کر دیتی ہے اور گرمی کی وجہ سے دل کی رطوبت گیس بن کر اڑتی اور آنسو بن کر ٹپک پڑتی ہے۔لیکن یہ آنسو بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ہر آنسو قبول نہیں ہو تا جیسے ہر موتی سُچا نہیں ہوتا، ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی ، ہر پھل کی شکل رکھنے والی چیز کھانے کے قابل نہیں ہوتی۔پھل مٹی کے بھی بنائے جاتے ہیں اور گلے سڑے بھی پھل ہوتے ہیں۔پھر چمکنے والی چیز ملمع کی بھی ہوتی ہے۔اسی طرح آنسو حقیقی بھی ہوتے ہیں اور مصنوعی بھی۔کون کہہ سکتا ہے کہ آنکھوں سے بہنے والا آنسو صرف دنیا کو دکھانے کے لئے ہے یا اس کی بے خودی کی علامت ہے۔جب ایک چمکنے والی ہنڈیا سے بخار تیزی سے نکلتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ڈھکنا بخارات کو روک نہیں سکتا۔مگر کبھی تم خود بھی پانی کا لوٹا اپنے ہاتھ سے بہاتے ہو اور جب تم پانی کا لوٹا بہاتے ہو تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ لوٹا اس پانی کو روک نہیں سکتا بلکہ تم خود اسے بہاتے ہو۔لیکن جب بخارات زور سے ہنڈیا سے باہر نکلتے ہیں اور ڈھکنا پرے پھینک دیتے ہیں تو تم کہتے ہو ڈھکنا بخارات کو روک نہیں سکتا۔اس پانی میں جو تم دیدہ دانستہ بہاتے ہو اور ان بخارت میں جو خود بخود ڈھکنا پرے پھینک کر نکل آتے ہیں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔تو تم کام اس لئے بھی کرتے ہو کہ لوگ تم کو اچھا سمجھیں مگر جو کام خود بخود اچھا ہو جاتا ہے اس میں تصنع اور فریب نہیں ہو تا۔