خطبات محمود (جلد 1) — Page 444
موم موم سوم قدموں میں روتی ہوئی گر گئی۔میں نے کہا اے اللہ ! میرے پاس سوائے ان چند آنسوؤں کے اور کچھ بھی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اوپر اٹھا لیا اور کہا میرا سب سے قیمتی تحفہ آج کے یہ آنسو ہیں۔ھم یہ کلمہ حکمت تھا جو ایک عیسائی عورت کے منہ سے نکلا۔ایک عیسائی کی فطرت بھی خدا تعالیٰ نے ہی پیدا کی ہے اور کبھی کبھی وہ اپنے احساسات اور جذبات سے آزاد ہو کر فطرت کی طرف لوٹتا ہے اور جب وہ فطرت کی طرف جاتا ہے تو وہ ویسا ہی ہمارے قریب ہوتا ہے جیسے ایک مومن اور فطرت کے نوروں کو پڑھتا ہے اور ان نوروں کو سامنے لا کر رکھ دیتا ہے۔مجھے یہ واقعہ پڑھے ۲۶ سال کے قریب گزر گئے ہیں۔مگر اب بھی اس بات کا مجھ پر گہرا اثر ہے کہ اس عورت نے کیسی لطیف بات کی ہے۔اللہ تعالٰی کے ساتھ جو انسان کے تعلقات ہیں وہ مقدم ہیں اور انہیں مقدم رکھنا چاہئے۔افسوس ہے کہ اب بہت کم انسان ہیں جو انہیں مقدم رکھتے ہیں یا حقیقی طور پر انہیں مقدم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لئے ہیں اور انہیں جنت دے دی ہے۔پس یہاں تحفہ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ایک سودا ہے جو خدا سے ہوا اور جس کے بدلہ میں اس نے مومنوں کو جنت دے دی۔امریکن شاعرہ نے جو بات کی ہے وہ صرف فطرت تک رسائی رکھنے کی وجہ سے اس کی زبان سے نکلی ہے مگر قرآن کریم دل کی بات کہتا ہے۔اس عورت نے یہ محسوس کیا کہ خدا تعالی کے دربار میں حاضر ہو کر طاقتور نے اپنی طاقت پیش کر دی، مالدار نے اپنی دولت پیش کر دی لیکن میرے پاس سوائے چند آنسوؤں کے پیش کرنے کے کچھ بھی نہیں۔لیکن قرآن کریم کہتا ہے یہ تو ایک سودا ہے ہم اسے تحفہ نہیں کہہ سکتے۔اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے پاس اپنی بھینس ۲۰۰ روپیہ پر بیچ دے اور خریدار ۲۰۰ روپے کی رقم بیچنے والے کی بیوی کو دے کر کہے کہ اپنے خاوند کو کہنا کہ فلاں شخص یہ تحفہ دے گیا ہے تو کتنی احمقانہ بات ہو گی۔وہ ۲۰۰ روپیہ تو بھینس کی قیمت ہے وہ تحفہ کس طرح ہو سکتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم کہتا ہے۔اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ خدا تعالیٰ نے تمہارے جان و مال خرید لئے ہیں اور وہ اس کے بدلہ میں تمہیں جنت دے گا گویا یہ مال و جان جنت کی قیمت ہے اور اسے تحفہ وہی شخص کہہ سکتا ہے جو کہہ دے کہ میں جنت میں نہیں جاتا۔اگر کوئی شخص یہ