خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 443

۳ م م ہوتی ہیں لیکن (گلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) اس کی تعلیم صرف یہاں تک رہ جاتی ہے اس سے نیچے نہیں جاتی اور جب تک میری جان میں جان ہے میں نہیں مانوں گا۔اس کے بھائی نے کہا میرا بھی یہی خیال ہے۔۲ پس بعض چیزیں صرف گلے تک رہ جاتی ہیں نیچے نہیں جائیں۔زبان تو اوپر کے حصہ میں ہے دل کے اندر نہیں اس لئے زبان دماغ کے تابع ہوا کرتی ہے۔انسان باتیں کرتا رہتا ہے اور لوگ دھوکا کھاتے رہتے ہیں۔زبانیں ایک بات کہتی ہیں لیکن دل اس کی بہت کم اتباع کرتا ہے۔رسول کریم م ل لا لا لو لم نے فرمایا كَلِمَةُ الحِكْمَةِ ضَالة الْمُؤْمِن اَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَهَا ٣ بعض دفعہ غیر مومن کی زبان سے بھی حکمت کی بات نکل جاتی ہے لیکن مومن کو یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ یہ حکمت کی بات مومن نے کہی ہے یا کا فرنے اسے یہ سمجھنا چاہئے کہ ہر اچھی بات اس کی ملکیت ہے اور جب ہر اچھی بات اس کی ملکیت ہے تو وہ جہاں کہیں بھی اسے پائے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے۔یہ کہاں کی عقل ہے کہ حکمت کی بات الف نے کی لیکن ب کہتا ہے کہ میں یہ حکمت کی بات نہیں لیتا۔تمہاری بکری کوئی دوسرا چھین لیتا ہے تو وہ تم واپس لے لیتے ہو لیکن حکمت کا کلمہ جو اس سے بھی زیادہ قیمتی ہے وہ نہیں لیتے۔كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ اَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَهَا فرمایا حکمت کی جو بات ہوتی ہے وہ مومن کی ملکیت ہے حکمت کی بات اگر اسے کسی کافر کے پاس سے بھی مل جائے تو وہ اسے چھوڑا نہیں کرتا گویا جہاں بھی اسے کوئی کلمہ حکمت ملتا ہے وہ لے لیتا ہے۔میں جب انگلینڈ گیا کہ تو کسی انگریز نے مجھے ایک کتاب بطور تحفہ دی۔وہ کتاب کسی امریکن شاعرہ کی تھی ایک دن ہم بیٹھے ہوئے تھے۔میری ایک بیوی بھی میرے پاس تھیں۔مجھے خیال آیا کہ کسی نے یہ کتاب مجھے بطور تحفہ دی ہے میں اسے پڑھ ہی لوں۔چنانچہ میں نے وہ کتاب پڑھی۔اس کافرہ کے منہ سے مومنانہ باتیں نکلی ہوئی تھیں۔وہ شاعرہ نظم میں اگلے جہان کا نقشہ اس طرح پیش کرتی ہے کہ گویا قیامت کا دن آگیا ہے اور خدا تعالیٰ کے سامنے سوال و جواب ہو رہا ہے۔کچھ لوگ خدا تعالیٰ کے سامنے آئے اور انہوں نے موتیوں اور ہیروں اور اشرفیوں کے ڈھیر اس کے قدموں میں ڈال دیئے۔اسی طرح وہ اور بھی کچھ مادی چیزیں بیان کرتی ہے اور کہتی ہے میں ایک گوشہ میں کھڑی حیران تھی کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں میری باری آئے گی تو میں خدا تعالیٰ کو کیا تحفہ دوں گی۔آخر یہ سارے کے سارے لوگ جب چلے گئے تو مجھے آواز آئی کہ آگے آؤ۔میں خدا تعالی کے حضور حاضر ہوئی اور اس کے