خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 41

ایسی زائد چیز مل گئی ہے جو پہلے نہ تھی جس کے باعث آج غیر معمولی طور پر خوشی ہے۔اگر صرف کھانے کی چیزیں اس خوشی کا موجب ہیں تو اور وقتوں میں بھی ایسا کھانا کھایا جا سکتا ہے اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ جو کھانے آج پکائے گئے ہیں۔وہ کسی دوسرے دن نہ پکائے جائیں بلکہ اور دنوں میں اس سے بھی زیادہ پکائے جا سکتے ہیں۔پھر کیا صرف نئے اور عمدہ کپڑے پہننا خوشی کا موجب ہے ؟ یہ بھی کوئی ایسی بات نہیں جو کسی اور وقت میں نہ ہو سکتی ہو سال کے دوسرے کئی ایام میں بھی اچھے سے اچھے کپڑے پہنے جاسکتے ہیں۔پھر کیا پیشہ ور اور کام کرنے والے اس لئے خوش ہیں کہ آج ان کو کام سے فراغت ہے؟ نہیں کیونکہ وہ سال کے دوسرے ایام میں بھی کام سے فراغت حاصل کر سکتے ہیں۔ایک تاجر بھی اور زمیندار بھی دوسرے ایام میں خوش ہو سکتا ہے۔غرض یہ چیزیں جو بظاہر خوشی کا باعث نظر آتی ہیں ان میں تو کوئی ایک بھی ایسی نہیں جو صرف عید سے ہی تعلق رکھتی ہو۔سال کے کسی دوسرے حصہ میں بھی یہ بطریق احسن میسر آ سکتی ہیں۔مگر جب لوگوں سے سوال کیا جائے تو اکثر یہی جواب دیں گے کہ ہماری خوشی کا باعث عید ہے۔معلوم ہوا کہ لفظ عید ان کی خوشی کا سبب ہے۔بعض الفاظ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان کے معانی اور نتائج ان میں اس قدر پیوست ہوتے ہیں کہ ان کے سننے کے ساتھ ہی فورا محسوس ہونے لگتے اور دل میں بیٹھ جاتے ہیں۔یہی حال عید کے لفظ کا ہے۔مسلمانوں کا بہت سا حصہ ایسا ہے جو نہیں جانتا کہ اس لفظ میں کیا حکمت ہے مگر اس سے ایک قسم کی خوشی ضرور محسوس کرتا ہے اور اس کے جذبات میں ہیجان پیدا ہوتا ہے۔نئے کپڑے پہنے اور اجتماع میں جانے سے بہت سے لوگ ہیں جو خوش ہو جاتے ہیں۔مگر دانا انسان کا کام یہ نہیں کہ وہ ایسی باتوں پر ہی خوش ہو جائے۔دانا انسان ہمیشہ کسی حکمت کو دیکھتا ہے۔ایسا انسان جو کسی بات کی حکمت معلوم ہوئے بغیر خوش ہوتا ہے اس کی خوشی بے معنی اور بے حقیقت ہوتی ہے اس کی فرحت، راحت ایسی ہی ہوتی ہے جیسے بعض دواؤں سے عارضی آرام حاصل کیا جاتا ہے۔۔آج کے دن اگر محض یہی باتیں کسی شخص کی خوشی کا موجب ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے تو ایک دانا کو تو نا خوش ہونا چاہئے کیونکہ آج اسے پہلے کی نسبت زیادہ خرچ کرنا پڑا ہے۔پھر اس دن کی خصوصیت نہیں رہتی کیونکہ اس قسم کے سامان اور