خطبات محمود (جلد 1) — Page 401
کر کے سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے روزے رکھ لئے۔جب تک روزے کے ساتھ اس کی شرائط کو ملحوظ نہ رکھا جائے اس وقت تک روزہ روزہ نہیں بلکہ ایک فاقہ ہے۔کیا آج مسلمان رسول کریم کے دین کی اشاعت کے لئے کوشش کرتے ہیں؟ کیا وہ رسول کریم میں کے لائے ہوئے پیغام کو پڑھتے ہیں؟ حضرت خلیفہ اول عورتوں کے درس میں فرمایا کرتے تھے اگر تم میں سے کسی کو کسی رشتہ دار کا خط آجائے اور وہ خود پڑھ نہ سکتی ہو تو جب تک اس خط کو سات جگہ پڑھا نہ لے اس کی تسلی نہیں ہوتی لیکن خدا کا خط مسلمانوں کے نام آیا ہے کیا وہ اس کے ایک دفعہ پڑھنے کے لئے کوشش کرتے ہیں کیا آج مسلمان اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیا اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں آج جتنا روپیہ مسلم لیگ 14 پر خرچ ہوتا ہے کیا اس کا کروڑواں حصہ بھی اسلام کی اشاعت کے لئے خرچ ہوتا ہے تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ مسلمان رسول کریم ملی اور ولولے کی ملاقات کے لئے جائیں اور آپ ان سے خوش ہوں کیونکہ ہر عید اور ہر خوشی انہوں نے اپنے لئے پیدا کی اور رسول کریم میں لاہوریوں کو اس میں شریک نہ کیا تو پھر وہ رسول کریم ملی اور ملک کی خوشیوں میں کس طرح شریک ہو سکتے ہیں۔چھوٹے بچے ایک دوسرے سے کہا کرتے ہیں تو میری مٹھائی کھالے میں تیری کھا لیتا ہوں مگر تعجب ہے جس نکتہ کو بچہ سمجھتا ہے بڑے نہیں سمجھتے۔جو لوگ رسول کریم ملی اہلیہ کو اپنی خوشیوں میں شریک نہیں کرتے وہ کس طرح خیال کرتے ہیں آپ ان کو اپنی خوشیوں میں شریک کر لیں گے۔پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ رسول کریم میں دل کی ریلی کی خوشی کو اپنی خوشی پر مقدم رکھے اور آپ کے مشن کو پورا کرنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہے۔دنیا میں توحید کو قائم کرے اسلام کی ترقی کے لئے دن رات کوشش کرے۔اگر ہم یہ کام کر لیں تو یقینا رسول کریم ہماری عیدوں میں شریک ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اسلام کے احکام پر پوری طرح عمل کر سکیں اور اللہ تعالیٰ کے نام کو دنیا میں بلند کرنا اپنا حقیقی مقصد قرار دے لیں۔تاکہ ہماری زندگیاں رسول کریم می میل کے لئے عید پیدا کرنے میں لگ جائیں اور ہم اس مقصد میں کامیاب ہوں جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں پیدا فرمایا ہے۔امِيْنَ اللَّهُمَّ أَمِينَ له ا (الفضل ۲۰۔ستمبر ۱۹۴۵ء) عبد الله السفاح (ولادت کا معلوم نہیں) ۱۳۶ھ - ۶۷۴۵ نے ۱۳۲ھ /۷۴۹ء میں بغداد