خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 382

۳۸۲ ہے کہ اے محمد ! ( م ) جو تنگیاں اور جو تکالیف تجھے پہنچ رہی ہیں ان کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی کامیابیاں تجھے ملنے والی ہیں۔تنگیاں تو ال لگا کر محصور اور محدود بتائی ہیں مگر سہولت نکرہ کی طرح وسیع ہوگی۔رسول کریم میں او ریہ کی تنگی کا زمانہ سارا ۲۳ سال ہے مگر اس کے مقابلہ میں اسلامی فتوحات کا زمانہ اتنا لمبا ہے کہ وہ تنگیاں اور تکالیف اس کے سامنے پیچ ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ صحابہ کرام کو بڑے بڑے دکھ دیئے گئے ، بہت تکالیف پہنچائی گئیں مگر بعد میں جو انعام ان کو ملے وہ انعام بتا کر اگر آج لوگوں سے کہا جائے کہ تم یہ دکھ اٹھا لو پھر تمہیں یہ یہ انعام ملیں گے تو یقینا لاکھوں لوگ وہی دکھ بلکہ ان دکھوں سے بھی زیادہ دیکھ اٹھانے کو تیار ہو جائیں گے۔اگر آج کسی سے کہا جائے کہ ۲۳ سال دکھ اور تکالیف اٹھاؤ اس کے تم ے بعد تمہیں بادشاہ بنا دیا جائے گا تو لاکھوں انسان بخوشی وہ تکالیف اٹھانے کو تیار ہو جائیں گے جو حضرت ابو بکر نے اٹھا ئیں ، لاکھوں ان مشکلات میں سے گذرنے پر آمادہ ہوں گے جن میں سے حضرت عمر گذرے اور جن میں سے حضرت عثمان اور حضرت علی کو گزرنا پڑا بشر طیکہ ان کو یہ معلوم ہو جائے کہ جو درجہ ان ملا وہی ان کو بھی مل جائے گا۔بلکہ لاکھوں نہیں کروڑوں آدمی ان تکالیف کو برادشت کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیں گے جو صحابہ نے اٹھا ئیں اگر انہیں بتا دیا جائے اور انہیں یقین ہو جائے کہ ان کو بھی وہی انعام ملیں گے جو پہلوں کو ملے تھے۔مگر آج کے لوگوں اور ان لوگوں کے حالات میں ایک فرق ہو گا۔وہ یہ کہ ابو بکر ، عمر ، عثمان اور علی نے جب ان تکالیف کو برداشت کیا اُس وقت انعامات پر وہ غیب میں تھے۔انہوں نے موت کو صرف موت کی خاطر قبول کیا تھا اور ان حکومتوں کے لئے نہ کیا تھا جو بعد میں ان کو ملیں۔تیرہ سو سال کا لمبا عرصہ جو اس وقت تک گذرا ہے اور آئندہ خدا جانے یہ اور کتنا لمبا ہو گا اُس وقت ان کے سامنے نہ تھا جب کہ ابو بکر کا نام لیتے ہوئے ہر مسلمان رضی اللہ عنہ ساتھ کہنے والا تھا۔حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان نے جب تکالیف اٹھا ئیں تو اُس وقت یہ اتنا لمبا عرصہ ان کے سامنے نہ تھا جب کہ ان کا نام لیتے ہوئے ہر مسلمان ادب و احترام کی وجہ سے آنکھیں نیچی کر لے گا۔حضرت علی نے جب یہ تکالیف برداشت کیں تو ان کے سامنے یہ لمبا عرصہ نہ تھا جب ان کے نام کے ساتھ ہی دل میں محبت و احترام کے جذبات پیدا ہوں گے اور علی رضی اللہ عنہ کہا جائے گا بلکہ مسلمانوں کا ایک طبقہ تو ان کو علیہ السلام بھی کہتا ہے۔تو فرق یہ ہے کہ ابو بکر نے قربانیاں قربانیوں کی خاطر کی تھیں، عمرؓ نے قربانیاں قربانیوں کی خاطر کی تھیں