خطبات محمود (جلد 1) — Page 381
PAI (۳۴) اله فرموده ۱۹ ستمبر ۱۹۴۴ء بمقام عید گاہ۔قادیان) 山 قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًاء یعنی ہر تنگی جو مومن پر آتی ہے اس کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے غیر محدود وسعت نصیب ہوتی ہے جس کے کم سے کم دو جلوے ہوا کرتے ہیں۔دوسری جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ که یعنی جو شخص بھی اپنے رب کے مقام سے خوف کرتا ہے اس کو دو جنتیں ملتی ہیں۔گویا یہاں بھی دو جنتوں کا ذکر ہے اور وہاں بھی ایک عسر کے ساتھ دو ٹیر بیان فرمائے ہیں گویا ہر ایک عمر کے ساتھ دو ٹیسر کا وعدہ کیا گیا ہے۔گو عُسر کا لفظ بھی دہرایا ہے مگر مراد ایک ہی عمر ہے کیونکہ اس پر ال لگایا ہے یعنی وہی عمر جو ہم نے پہلے بیان کیا ہے اس کا دوبارہ ذکر کرتے ہیں۔مگر یسر پر ال نہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ پہلا ہی یسر نہیں بلکہ نیا ہے اور جس يُسر کا ذکر پہلی آیت میں ہے اسی کا ذکر دوسری میں نہیں بلکہ اس میں ایک نئے یسر کا ذکر ہے اور دوسرے نکرہ ہونے کی وجہ سے اس میں ایک غیر محدود پن پایا جاتا ہے۔کوئی چیز جو انسان کے ذہن میں مستحفر نہ ہو محدود نہیں ہوا کرتی بلکہ اس کی حدود کا تعلق خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے ساتھ ہوا کرتا ہے جتنا ئیر ہم خدا تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل کو جذب کرنے کے ساتھ بڑھاتے جائیں اتنا ہی وہ بڑھتا چلا جائے گا یعنی انسانی اعمال اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل کو جتنا بڑھاتے جائیں گے اتنا ہی ٹیسر بڑھتا چلا جائے گا۔مگر العُشر جو دو بار بیان فرمایا اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام پر دو تاریک زمانے آنے والے ہیں ایک زمانہ تو وہ تھا جو بعثت رسول کریم میں دل کی ریل سے شروع ہوا اور آپ کی زندگی میں ہی ختم ہو گیا۔تمام تکالیف و مصائب اور جملہ مشکلات جو اسلام کے راستہ میں دشمنوں کی طرف سے کھڑی کی گئیں وہ رسول کریم ملی کی زندگی میں ہی آپ کی دعاؤں اور آپ کی قربانیوں کی وجہ سے ختم ہو گئیں اور آپ کی وفات ایک فاتح جرنیل کی حیثیت میں ہوئی۔اور آیت اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا میں اسی کی طرف اشارہ ہے اور بتایا گیا