خطبات محمود (جلد 1) — Page 374
نہیں سوم کے سر تعلیم اور وعظ و نصیحت کے ذریعہ سے پھر دوبارہ ان کرتے ہوئے قلعوں کی تعمیر کی جائے گی پھر دوبارہ اسلام کے احیاء کی کوشش کی جائے گی ، پھر دوبار محمد میر کے جھنڈے کو کسی چوٹی کسی پہاڑ پر نہیں کسی قلعہ پر نہیں بلکہ دنیا کے قلوب پر گاڑا جائے گا۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ دلوں پر گاڑا ہوا جھنڈا اُس جھنڈے سے بہت زیادہ بلند اور بہت زیادہ مضبوط اور بہت زیادہ پائیدار ہوتا ہے جسے کسی پہاڑ کی چوٹی یا قلعہ پر گاڑ دیا جائے۔پس آج اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ تبلیغ میں لگ جائے اور غیر احمدیوں کو بھی تلقین کرے کہ وہ دوسرے مذاہب والوں کو تبلیغ کیا کریں کیونکہ گو احمدیت اور عام مسلمانوں کے عقائد میں بہت بڑا فرق ہے مگر پھر بھی بہت سے مشترکہ مسائل ایسے ہیں جن میں ہمارا اور ان کا یکساں عقیدہ ہے۔پس اگر غیر احمدی بھی تبلیغ کرنے لگ جائیں اور وہ غیر مذاہب والوں کو داخل اسلام کریں تو گو وہ حقیقی اسلام سے پھر بھی دور ہوں گے مگر ہمارے نقطہ نگاہ سے وہ پہلے کی نسبت اسلام سے بہت زیادہ قریب ہو جائیں گے۔آخر ہر جگہ ہم ہندوؤں میں تبلیغ نہیں کر سکتے ، ہر جگہ ہم سکھوں میں تبلیغ نہیں کر سکتے ، ہر جگہ ہم جینیوں میں تبلیغ نہیں کر سکتے ، ہر جگہ ہم زرتشتیوں میں تبلیغ نہیں کر سکتے ہر جگہ ہم بدھوں میں تبلیغ نہیں کر سکتے۔بلکہ سینکڑوں ایسے مقامات ہیں جہاں ایک بھی احمدی نہیں۔پس اگر ہم ہی تبلیغ کریں تو ایک وسیع میدان تبلیغ سے خالی پڑا رہے گا لیکن اگر ہم ہر غیر احمدی کو سمجھانے کی کوشش کریں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب جہاد سے منع کیا تھا تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ تم اپنے ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ جاؤ اور اسلام کی ترقی کے لئے کوئی کوشش نہ کرو بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ محمد میر کے لائے ہوئے دین کو بجائے تلوار کے ذریعہ پھیلانے کے دلائل و براہین اور تبلیغ کے ذریعہ پھیلاؤ اور اس لحاظ سے اب تمہارا بھی فرض ہے کہ تم یہی ہتھیار لے کر گھر سے نکلو اور ہر غیر مسلم کو تبلیغ کے ذریعہ اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کرو تو اس کے بعد جو لوگ ان غیر احمدیوں کے ذریعہ اسلام میں داخل ہوں گے گو وہ اس نام نہاد اسلام میں داخل ہوں گے جس میں قسم قسم کی غلطیاں پیدا ہو چکی ہیں لیکن پھر بھی وہ حقیقی اسلام کے پہلے کی نسبت بہت زیادہ قریب ہو جائیں گے۔پس صرف خود ہی تبلیغ نہ کرو بلکہ ہر غیر احمدی کو جو تمہیں ملتا ہے سمجھاؤ اور اسے بتاؤ کہ آج اسلام کی ترقی کا صرف یہی ایک حربہ رہ گیا ہے اس کے سوا اور کوئی ذریعہ اسلام کی ترقی کا نہیں۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ تم میں سے جسے