خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 351

۳۵۱ کیا تو اس کی نانی کہنے لگی کہ اب ہمارے لئے کذات ہی رہ گئے ہیں۔گویا ہر ایک نے دوسرے بدلہ لے لیا۔ایک نے دوسرے کو کذات کہہ دیا اور دوسرے نے پہلے کو کذات قرار دے؟ دیا۔سیدوں نے دوسری قوموں کو ذلیل سمجھا اور دوسری قوموں نے سیدوں کو فقیر اور منگتے کہہ دیا۔بہر حال مسلمانوں میں تفریق ہوئی اور ان میں سے کچھ اچھے بن گئے اور کچھ ادنی سمجھے جانے لگے حالانکہ اسلام نے اس تفریق کو قائم نہیں کیا۔اسی طرح عہدوں اور امارتوں کے متعلق مسلمانوں میں امتیاز کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ فلاں خاندان اچھا ہے اور فلاں نہیں۔مگر نماز میں آج کل کے بگڑے ہوئے مسلمان بھی فرق نہیں کرتے اور وہ اس امر کو برداشت نہیں کر سکتے کہ مسجد میں چھوٹے اور بڑے کا سوال قائم ہو۔چنانچہ تم لاہور کی شاہی مسجد یا دہلی کی جامع مسجد میں جا کر دیکھ لو وہاں اب بھی کسی امیر زادے کی یہ جرات نہیں ہوتی کہ کسی مسلمان کو وہ یہ کہہ سکے کہ یہاں سے ہٹ جاؤ۔کہ اگر وہ اپنی عزت رکھنا چاہے تو اس کے لئے ایک ہی راستہ ہوتا ہے اور وہ یہ کہ آپ پیچھے ہٹ جائے۔چنانچہ کئی متکبر اس طرح کرتے اور اس طرح پہلی صف کے ثواب سے محروم ہو جاتے ہیں۔کہ وہ پیچھے تو اس لئے ہٹتے ہیں تا ان کی چودھراہٹ قائم رہے مگر حقیقتاً ان کا اپنا ہی نقصان ہوتا ہے وہ اول صف کے انعامات سے محروم ہو جاتے ہیں اور ایک گوشے میں بیٹھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔اس موقع پر گو یہ بے تعلق کی بات ہے میں یہ کہنے سے نہیں رہ سکتا کہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کے خاندان کے افراد اکثر اس ثواب سے محروم رہتے ہیں چنانچہ جمعہ میں جب بھی میری نظر پڑتی ہے میں انہیں آخری صفوں میں بیٹھا ہوا دیکھتا ہوں حالانکہ رسول کریم ملی کریم نے فرمایا ہے کہ جو شخص پہلی صف میں شامل ہوتا ہے اسے اونٹ کی قربانی کا ثواب ملتا ہے اور جو شخص بعد میں آتا ہے اسے اس سے کم ثواب ملتا ہے یہاں تک کہ ہوتے ہوتے مرغی کی قربانی تک کا ثواب رہ جاتا ہے۔نہ گویا تدریجاً ثواب کم ہو تا چلا جاتا ہے اور بعد میں آنے والوں کو بہت ہی کم اس ثواب میں سے حصہ ملتا ہے۔یہ کہ اتفاقاً کبھی پیچھے آئے اور بیٹھ گئے یہ اور بات ہے مگر جس چیز کو رسول کریم ملی عالم نے ثواب کا موجب قرار دیا ہے اس سے عادتاً پیچھے رہنا بڑی بھاری محرومی کی دلیل ہے۔مومن کو تو جتنا ہو سکے ثواب کے کاموں میں آگے بڑھنا چاہئے نہ کہ پیچھے ہٹنا چاہئے۔ایک دفعہ ایک صحابی جنازہ کے لئے گئے تو کسی دوسرے صحابی نے بیان کیا رسول کریم میں نے یہ فرمایا ہے کہ جو شخص جنازہ پڑھتا اور